حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 185
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل باب ہشتم 185 حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف منسوب دعوي الوہیت کی تردید دنیا کے بیشتر مذاہب کا بنیادی عقیدہ کائنات کے خالق اور ربوبیت کرنے والے وجود پر یقین اور ایمان ہے۔اسی صداقت کو قرآن کریم یوں بیان فرماتا ہے: وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ الله (سورة الزمر آیت (۳۹) یعنی اگر دنیا کے لوگوں سے پوچھا جائے کہ تمہارا پیدا کرنے والا کون ہے تو فوراً بول اٹھیں گے کہ ہمارا خالق اللہ ہے اس عظیم الشان اتفاق اور ایسے بے نظیر اجماع کی دوسری وجہ فطرت کی گواہی بھی ہے۔کیونکہ ہر ایک انسان کی فطرت سلیمہ اُسے مجبور کرتی ہے کہ وہ اس شہادت کا اقرار کرے۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے: أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ، قَالُوْا بَلَى (سورة الاعراف آیت ۱۷۳) یعنی انسان کی فطرت پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ ایک ایسی ہستی ضرور موجود ہے جو کہ ربوبیت کر رہی ہے بلکہ صحیح فطرت انسانی ایک لمحہ کیلئے بھی یہ وہم و گمان نہیں کر سکتا کہ وہ بغیر کسی حاکم کے دنیا میں زندگی بسر کر رہا ہے۔چنانچہ خالق فطرت کلام فرماتا ہے: افِي اللهِ شَكٍّ فَاطِرِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ (سورة ابراهيم: آیت | 1) یعنی فطرت صحیحہ حیرانی سے اس بات کا اظہار کرتی ہے کہ کیا خدا تعالیٰ کے وجود کے ہونے یا نہ ہونے کے متعلق بھی کوئی شک کر سکتا ہے۔پس مذاہب عالم میں خدا کی ہستی کے متعلق کوئی