حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 186 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 186

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 186 اختلاف نہیں اگر اختلاف ہے تو اس کی صفات میں اور اس کی صفات کے ظہور میں اختلاف ہے۔اسلام اور قرآن کریم ذات باری کو صفات حسنہ سے متصف اور حسنات سیئہ سے منزہ قرار دیتا ہے وہ واحد لاشریک ہے لیکن موجودہ عیسائیت حضرت مسیح علیہ السلام کو ابن اللہ قرار دے کر یہ دعویٰ کرتی ہے کہ مسیح علیہ السلام کے وجود میں اللہ تعالیٰ نے تجسم اختیار کیا ہے اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس عقیدہ کی حقیقت کیا ہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام تو حید خداوندی کے علمبردار تھے۔اور تمام انبیاء اسی صداقت کو لیکر مبعوث ہوتے رہے ہیں اناجیل میں یا عہد نامہ جدید کے دوسرے حصوں میں کہیں بھی مسیح علیہ السلام کا دعوی الوہیت موجود نہیں بلکہ جابجا توحید خداوندی کی تعلیم ملتی ہے مثلاً دیکھیں مندرجہ ذیل اقتباسات انجیل : اور ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خدائے واحد اور برحق کو اور یسوع مسیح کو جسے تو نے بھیجا ہے جائیں۔(یوحنا باب ۱۷ آیت ۳) اول یہ کہ اے بنی اسرائیل سن خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے۔اور تو خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل اور اپنی ساری طاقت سے محبت رکھ۔(مرقس باب ۱۲ آیت ۲۹ - ۳۰ لوقا باب ۱۰ آیت ۳۷ متنی باب ۲۲ آیت ۳۷ - ۳۸) تم جو ایک دوسرے سے عزت چاہتے ہو اور وہ عزت جو خدائے واحد کی طرف سے ہوتی ہے نہیں چاہتے تو کیوں کر ایمان لا سکتے ہو؟ (یوحنا باب ۵ آیت ۴۴) اوپر جاتا ہوں۔میں اپنے باپ اور تمہارے باپ اور اپنے خدا اور تمہارے خدا کے پاس ( یوحنا باب ۲۰ آیت ۱۷) تمہارا باپ ایک ہی ہے جو آسمان پر ہے۔(متی باب ۲۳ آیت ۹)