حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 179
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل یہوداہ نے میرے خداوند سے کہا تو میرے داہنے ہاتھ بیٹھ جب تک کہ میں تیرے دشمنوں کو تیرے پاؤں کی چوکی نہ کر دوں خداوند تیرے زور کا عصاء صیون سے بھیجے گا تو اپنے دشمنوں میں حکمرانی کر لشکر کشی کے دن تیرے لوگ خوشی سے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں۔تیرے جوان پاک آرائش میں ہیں اور صبح کے بطن سے شبنم کی مانند۔خداوند نے قسم کھائی ہے اور پھر لگا نہیں کہ تو ملک صادق کی طرح پر ابد تک کا ہن ہے۔خداوند تیرے دھنے ہاتھ پر اپنے قہر کے دن بادشاہوں کو چھید ڈالے گا۔وہ قوموں میں عدالت کرے گا۔وہ لاشوں کے ڈھیر لگادے گا۔وہ بہت سے ملکوں میں سروں کو کچلے گا۔وہ اس کے سر کو سر بلند رکھے گا۔“ 179 (زبوره ۱۱: آیات اتا۷ ) صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ صیون یعنی یروشلم سے عصاء حکومت منتقل ہو جائے گا اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے اوصاف بتائے کہ وہ اشدّ آءُ عَلَى الكُفَّارِ اور رُحُمَاءُ بینھم ہوں گے۔ملک صادق ایک صالح عرب بادشاہ تھا۔تو رات میں اس کی تعریف آئی ہے چنانچہ لکھا ہے: اور ملک صادق سالم کا بادشاہ روٹی اور مے لایا اور وہ خدا کا کا ہن تھا۔اور اس نے اس کو برکت دے کر کہا کہ خدا کی طرف سے جو آسمان اور زمین کا مالک ہے۔ابرام مبارک ہو۔اور مبارک ہے خدا جس نے تیرے دشمنوں کو تیرے ہاتھ میں کر دیا تب ابرام نے سب کا دسواں حصہ اُس کو دیا۔“ ( پیدائش باب ۱۴ آیت ۱۸ تا ۲۱) حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کو عشر دیا۔نبی موعود نے ملک صادق بن کر آنا تھا یعنی عربوں میں مبعوث ہونا تھا اور نسل ابراہیم نے ان کوعشر دینا تھا۔حضرت مسیح علیہ السلام نے اس