حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 180
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل۔180 پیشگوئی کا حوالہ دیکر بتایا ہے کہ آنے والا عظیم الشان نبی موعود بنی اسرائیل سے نہیں بلکہ عرب میں بسنے والی نسل اسماعیل میں سے ہونے والا ہے۔یہی وہ بات تھی جو حضرت مسیح علیہ السلام یہودیوں کی مخالفت کی وجہ سے تمثیلوں میں بیان کرتے تھے۔کیونکہ یہودی اس خبر کوسن کر کہ نبوت کا انعام ان سے لیکر نسل اسماعیل کو دیا جارہا ہے مشتعل ہو جاتے تھے۔اسی لئے آپ کہتے تھے : ” مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنی ہیں مگر اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب وہ یعنی سچائی کا روح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا۔اس لئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا۔لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا۔اور تمہیں آئندہ کی خبر میں دے گا اور میرا جلال ظاہر کرے گا۔“ (یوحنا باب ۱۶ آیت ۱۲ تا ۱۴) چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم نے حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق رائج غلط نظریات اور سب الزامات کو جو آپ پر لگائے جاتے تھے رڈ کیا ہے۔اور آپ کے عبودیت کے بلند مقام پر جس پر کہ آپ فائز تھے بیان کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کامل تعلیم اور شریعت پیش فرمائی جس کے متعلق کہا گیا تھا: ”ہمارا علم ناقص ہے اور ہماری نبوت نا تمام لیکن جب کامل آئے گا تو ناقص جاتارہے گا۔“ (کرنتھیوں باب ۱۳ آیت ۹-۱۰) قرآن کریم نے خود بھی دعویٰ فرمایا ہے: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ (سورة المائده آیت (۴) ترجمہ : آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کر دیا ہے۔