حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 101 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 101

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل - دن میں کھڑا کر دے گا۔اس نے اپنے بدن کے مقدس کی بابت کہا تھا۔پس جب وہ مُردوں میں سے جی اٹھا تو اسکے شاگردوں کو یاد آیا کہ اس نے یہ کہا تھا۔“ پھر لکھا ہے یوحنا باب ۸ آیت ۵۷ میں کہ : تمہارا باپ ابراہیم میر دن دیکھنے کی امید پر بہت خوش تھا۔چنانچہ اس نے دیکھا اور خوش ہوا۔یہودیوں نے اس سے کہا تیری عمر جو ابھی پچاس برس کی نہیں پھر کیا تو نے ابراہیم کو دیکھا ہے“ 101 احادیث نبویہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی عمر ۱۲۰ سال کی ہوئی تھی جیسا کر لکھا ہے: إِنَّ عيسى ابنِ مَرْيَمَ عَاشَ عِشْرِيَن وَمِائَةَ سَنَةً۔مواهب اللدنيه قسطلانی جلد ا صفحه ۴۳ مطبوعہ دارالمعارف ، بیروت لبنان) حضرت عیسی علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارباص تھے اور اپنے سے بعد میں آنے والے عظیم الشان نبی کی بشارت اور خوشخبری دینے آئے تھے۔آپ نے ایک لمبی زندگی دنیا میں گزاری ملک ملک کی سیاحت کی اور اسباط نبی اسرائیل کو ڈھونڈ کر بتا یا کہ آسمان کی بادشاہت قریب آگئی ہے اور تاکید کی کہ جب آپ کی آمد ہو تو آپ کی تصدیق کرنا چنانچہ بنی اسرائیل کے جس حصہ نے آپ کا انکار کیا انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی انکار کر دیا اور جن بنی اسرائیل کے قبیلوں نے آپ کو مانا اور آنے والے کے متعلق آپ کے پیغام کو سمجھ لیا انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بغیر کسی مزاحمت کے مان لیا سوچنے والی بات یہ ہے کہ کیا ایسا نہ ہوا ہوگا کہ آپ نے اپنے جدا مجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے تعمیر کردہ بیت اللہ کی زیارت نہ کی ہوگی اور آنحضرت کے ہونے والے مولد و مسکن میں پہنچ کر اپنی آنکھیں فرش راہ نہ کی ہوں گی جبکہ آپ کا ایک فرض خانہ کعبہ کی عظمت کو یہودیوں کے دلوں میں قائم کرنا بھی تھا اور یہ بھی تھا کہ وہاں