حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 102 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 102

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل - 102 پر آئندہ پیدا ہونے والے عظیم الشان نبی جس کے متعلق ابتداء سے الہی نوشتوں میں ذکر آچکا تھا کی آمد کا اعلان کیا جائے اور اس کے متعلق بوضاحت سمجھایا جائے۔یوحنا عارف کے مکاشفہ باب ۲۱ آیت ۱ تا ۲ میں لکھا ہے: ” پھر میں نے ایک نئے آسمان اور ایک نئی زمین کو دیکھا کیونکہ پہلا آسمان (موسوی شریعت) اور پہلی زمین (امت بنی اسرائیل ) جاتی رہی تھی اور (روحانیت کا مخزن ) سمندر بھی نہ رہا تھا پھر میں نے شہر مقدس نئے یروشلم کو آسمان پر سے خدا کے پاس سے اترتے دیکھا۔وہ اس دُلہن کی مانند آراستہ تھا جس نے اپنے شوہر کیلئے سنگھار کیا ہو۔“ پھر لکھا ہے: اس مقدس شہر میں حواریان مسیح کے نام لکھے ہوئے تھے اور بڑہ یعنی مسیح نے بھی اس میں قیام کیا۔یہاں نئے یروشلم سے مراد مکہ ہے۔“ یوحنا عارف کو بھی کشف دکھایا گیا اور حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کشفی نظارہ دکھایا گیا اور آپ نے فرمایا کہ: وادی مکہ میں مجھ سے پہلے ستر نبی گذرے ہیں۔وہ مختلف الفاظ میں تلبیہ کہتے۔۔۔۔۔۔تھے اور۔۔۔۔حضرت عیسی کے تلبیہ کے الفاظ یہ تھے میں حاضر ہوں۔اے میرے خدا میں تیرا بندہ ہوں اور تیری بندی کا بیٹا ہوں جو تیرے دونوں بندوں کی بیٹی تھی۔میں حاضر ہوں اے میرے خدا میں حاضر ہوں اس طرح دوسری حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ 66 حواریوں نے بھی حج کیا تو وہ حرم کی تعظیم میں ننگے پاؤں چلے۔“ اخبار مکه از آزرقی ۲۲۳ صفحه ۲۳۶ تا ۲۳۸ مطبوعہ دارالمعارف بیروت، لبنان) وَحُدِّثَتْ أن قريشاً وَجَدوُا فِى الرُّكْن كِتَاباً بِالْسُرْ يَا نِيَّةِ فَلَمْ يدروا مَاهُوَ حتى قرآ لَهُمْ رَجُلٌ مِنْ يَهُودٍ فَإِذَا هُوَ۔