حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 98 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 98

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل جنہوں نے بری روحوں اور بیماریوں سے شفا پائی تھی یعنی مریم مگر لینی کہلاتی تھی جس میں سے سات بدروحیں نکلی تھیں۔اور یو انسہ ہیر دیس کے دیوان خوزہ کی بیوی اور 98 سوسنا اور بہتیری اور عورتیں بھی تھیں جو اپنے مال سے اُن کی خدمت کرتی تھیں۔“ (لوقا باب ۸ آیت اتا۳ ) پس ایسے حالات میں آپ کے لئے شادی ضروری تھی تا کہ کسی کو ٹھوکر نہ لگے۔اور ہوا بھی ایسا ہی تھا۔مریم مگر لینی جو آپ سے بہت تعلق رکھتی تھی اور انجیل میں جا بجامریم مدلینی کی طرف سے ایسے وارفتگی کے جذبات کا اظہار دکھایا گیا ہے جس سے یہ یقین ہوتا ہے کہ آپ کا اُس کے ساتھ زوجیت کا تعلق تھا۔ورنہ کسی اور کو جومحرم نہ ہو نبی اپنے اتنا قریب نہیں آنے دیتا جو اس کی روحانیت کیلئے بھی نقصان دہ ہو اور معاشرہ میں بھی اس کے ذریعہ ایک بد مثال قائم ہوتی ہو۔لکھا ہے: یسوع کی صلیب کے پاس اس کی ماں اور اس کی ماں کی بہن مریم کلو پاس اور مریم مگر لینی کھڑی تھیں“ ( یوحنا باب ۲۰ آیت ۱ تا ۱۶) ظاہر ہے ایسے نازک مرحلہ میں رشتہ داروں کے ہی پاس رہنے کا امکان ہے اور مریم مگر لینی بھی اُن میں شامل تھی۔پھر لکھا ہے: ”ہفتہ کے پہلے دن مریم مگدینی ایسے تڑ کے کہ ابھی اندھیرا ہی تھا قبر پر آئی۔۔۔مریم با ہر قبر کے پاس کھڑی روتی رہی۔۔۔۔اس لئے کہ میرے خداوند کو اٹھالے گئے۔اس نے باغباں سمجھ کر اس سے کہا میاں اگر تو نے اس کو یہاں سے اٹھایا ہو تو مجھے بتادے اسے کہاں رکھا ہے تاکہ میں اُسے لے جاؤں۔یسوع نے اس سے کہا مریم ! اس نے مڑ کر عبرانی زبان میں کہا ر بونی! ( یوحنا باب ۲۰ آیت ۱ تا ۱۶)