حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 95 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 95

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل۔95 یوحنا آیا اور بیابان میں بپتسمہ دیتا اور گناہوں کی معافی کیلئے تو بہ کے بپتسمہ کی منادی کرتا تھا اور یہودیہ کے ملک کے سب لوگ اور یروشلم کے سب رہنے والے نکل کر اس کے پاس گئے اور انہوں نے اپنے گناہوں کا اقرار کر کے دریائے پر دن میں اس سے بپتسمہ لیا اور ان دنوں ایسا ہوا کہ یسوع نے گلیل کے ناصرہ سے آکر بر دن میں یوحنا سے بپتسمہ لیا۔“ (۳)۔۔۔۔۔لوقا کہتا ہے: ( مرقس باب اوّل آیت ۴ تا ۹ ) اس وقت خدا کا کلام بیابان میں زکریا کے بیٹے یوحنا پر اترا اور بردن کے سارے گردو نواح میں جا کر گناہوں کی معافی کیلئے تو بہ کے بپتسمہ کی منادی کرنے لگا۔۔۔جب سب لوگوں نے بپتسمہ لیا اور یسوع بھی بپتسمہ پا کر دُعا مانگ رہا تھا تو ایسا ہوا کہ آسماں (لوقا باب ۳ آیت ۲ تا ۲۱) کھل گیا۔“ انسان روحانیت میں بھی بتدریج ترقی کرتا ہے اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی تدریج ترقی کی۔اور حضرت یحییٰ علیہ السلام سے فیض یاب ہوئے لیکن جب حضرت یحییٰ علیہ السلام شہید ہو گئے تو حضرت عیسی علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کی طرف سے نبوت پا کر انجیل کی منادی شروع کر دی۔حضرت مسیح علیہ السلام کی رفیقہ حیات رہبانیت کا اختیار کرنا حضرت مسیح علیہ السلام کی تعلیم میں ضروری نہ تھا بلکہ اختیاری اور وقتی ضرورت کے پیش نظر تھا جیسا کہ آپ فرماتے ہیں: شاگردوں نے اس سے کہا کہ اگر مرد کا بیوی کے ساتھ ایسا ہی حال ہے تو بیاہ کرنا ہی اچھا نہیں اس نے ان سے کہا سب اس بات کو قبول نہیں کر سکتے مگر وہی جن کو یہ