حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 78 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 78

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل - 78 الجزء انگریزی میں جبرالٹر اور ایڈ مرل بن گیا ہے۔پس حضرت مریم کی روز مرہ کی زبان میں الیسوع کو عیسیٰ کہتے تھے اور بشارت میں بھی یہی مادری زبان میں آپ کا نام بتایا گیا تھا اور یہی نام رکھا گیا تھا اور یہ کہنا کہ آپ کا نام یسوع رکھا گیا تھا ایک ایسا دعوی ہے جو بلا دلیل ہے جبکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اناجیل کے تراجم مختلف زبانوں میں ہوتے رہے اور اصل نام جو رکھا گیا تھا محفوظ نہ رہ سکا۔اور آج سرے سے ہی عبرانی اناجیل نا پید ہیں اور یونانی انا جیل میں ” آئی سو اس نام ملتا ہے۔سریانی میں الیسوع اور لاطینی میں ” آسوس یا ھی سوس‘ جتنے تراجم ہوتے گئے اتنے ہی نام ہیں۔ہیسٹنگ بائیل ڈکشنری میں کفِ افسوس ملتے ہوئے تسلیم کیا گیا ہے کہ مسیح کے نام کا صحیح تلفظ بھی محفوظ نہیں ہے کیونکہ اصل نام نا پید ہے۔اس میں لکھا ہے: "It is strange that even his name has not yet been explained with certainity" یہ امر حیران کن ہے کہ ابھی تک مسیح کے نام کی تصریح بھی حتمی طور پر نہیں ہو سکتی“ پس یسوع نام کی ابتدائی صورت تو رات میں یہوشع ہے۔اس سے یشوع اور یشوعہ بنا ہے جو آرامی زبان میں الیسوع اور الیسوعہ ہو گیا ہے اور گلیل کی ٹھیٹھ پہاڑی اور عام زبان میں عیسی کہلایا۔ظاہر ایسا ہوتا ہے کہ یشوع نام کا لسانی سفر یہوشع سے شروع ہو کر عیسی پر ختم ہوا۔عبرانی یہوشع۔یشوع۔یشوع۔۔۔۔۔آرامی الیسوعہ الیسوع inous گلیلی عیسی Essa حضرت مسیح علیہ السلام اس علاقہ میں مبعوث ہوئے جس میں عوام الناس یسوع کو عیسی پکارتے تھے۔فرشتہ نے حضرت مریم صدیقہ کو ان کی مادری زبان میں بشارت دی جیسا کہ سنت