حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 77 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 77

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 77 اب جہاں تک مسیح یعنی خرستس کا تعلق ہے۔اس میں اناجیل اور قرآن کریم آپس میں متفق ہیں اور کوئی اختلاف نہیں ہے۔جو اختلاف ہے وہ صرف اتنا ہے کہ انجیل کا لفظ ” یسوع“ قرآن کریم میں جا کر عیسی کیسے بن گیا ہے۔دراصل بات یہ ہے عیسی علیہ السلام اور ان کے حواری شمالی فلسطین کے رہنے والے تھے انجیل میں ان کو گلیلی کہا گیا ہے گلیل میں یہود کے علاوہ اور بھی کئی اقوام سکونت پذیر تھیں۔مثلاً آرمینی۔رومی اور یونانی وغیرہ۔اسی وجہ سے ہی گلیلی جویم، یعنی غیر قوموں کا گلیل بھی کہا جاتا تھا۔گلیل میں یہودی تو آرامی زبان بولتے تھے۔لیکن یہ وہ آرامی زبان نہیں تھی جو کہ یہودیہ میں بولی جاتی تھی۔ان کی زبان کافی حد تک اہل یہود کی زبان سے مختلف تھی۔انجیل متی میں لکھا ہے: تھوڑی دیر کے بعد جو وہاں کھڑے تھے انہوں نے پطرس کے پاس آکر کہا بے شک تو بھی ان میں سے ہے کیونکہ تیری بولی سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔“ (متی باب ۲۶ آیت ۷۳ ) اس سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عیسی ابن مریم اور حواریوں کی زبان یہود یہ والوں سے مختلف تھی۔Concised Dictionary of Bible میں زیر لفظ گلیل لکھا ہے: اہل گلیل حروف حلقی ادا کرنے میں خاص دقت محسوس کرتے تھے۔ان کا لب و لہجہ ٹھیٹھ اور دیہاتی تھا“ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی کاھن گلیلی یہودیوں کو” عامی ھا ارض “ کہتے تھے یعنی ملک کے عام لوگ اور انکو خواص میں شمار نہیں کیا جاتا تھا۔پس حضرت مریم علیہا السلام کو بھی آپ کی اپنی زبان میں ہی بشارت حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق ملی تھی۔عبرانی یسوعہ آرامی میں الیسوعہ ہے اور گلیلی لوگوں کو حروف حلقی کے ادا کرنے میں وقت محسوس کرنے کی وجہ سے الیسوعہ کو مقلوب کر کے عیسی کہنا پڑتا تھا۔اور یہ ان کا محاورہ زبان تھا جس طرح مثلا عربی لفظ جبل الطارق اور امیر