حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 70 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 70

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل - 70 و مسیح ہندوستان میں اور قرآن کریم نے سب سے پہلے اس حقیقت سے نقاب کشائی فرمائی ہے فرماتا ہے : وَّاوَيْنَهُمَا إِلَى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِيْنٍ (سورة المومنون : آیت (۵) ترجمہ: اور ہم نے اُن دونوں ( مریم اور ابن مریم ) کو ایک بلند پہاڑیوں والی اونچی قابل رہائش اور چشموں والی جگہ میں پناہ دی تھی۔(۴) اسی طرح بشپ بارنس (Bishop Barns )اپنی کتاب Rise of Christianity (مطبوع۔Longman Green & Coلندن) میں تحریر فرماتے ہیں: اس تعیین کیلئے کوئی قطعی ثبوت نہیں ہے کہ ۲۵ دسمبر ہی مسیح کی پیدائش کا دن ہے۔اگر ہم لوقا کی بیان کردہ ولادت مسیح کی کہانی پر یقین کر لیں کہ اس موسم میں گڈریے رات کے وقت اپنی بھیڑوں کے گلہ کی نگرانی بیت لحم کے قریب کھیتوں میں کرتے تھے تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی پیدائش موسم سرما میں نہیں ہوئی جبکہ سرما میں رات کو ٹمپریچر اتنا گر جاتا ہے کہ یہودیہ کے پہاڑی علاقہ میں برف باری ایک عام بات ہے اسلئے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا کرسمس ڈے کافی بحث و تمحیص کے بعد قریباً ۳۰۰ء میں متعین کیا گیا ہے۔“ (صفحہ ۹۷) عیسائی محققین و مفسرین بائییل کے مذکورہ بالا بیانات سے ولادت مسیح کے قرآنی بیان کی نہ صرف تصدیق ہوتی ہے بلکہ سچائی ظاہر ہوتی ہے اور یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے کہ عیسائیوں کا رانج کرسمس ڈے بہت بعد میں متعین ہوا ہے چنانچہ پولوس نے عیسائی مذہب کے بنیادی عقائد میں غیر قوموں کیلئے جب بے جا لچک پیدا کرنی شروع کی جس کے لئے عیسائی مذہب متحمل نہ تھا