حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 54 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 54

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل مریم ! تو نے بہت برا کام کیا ہے۔انا جیل اور ولادت مسیح علیہ السلام 54 " پس یوسف بھی گلیل کے شہر ناصرہ سے داؤد کے شہر بیت لحم کو گیا جو یہود یہ میں ہے۔اسلئے کے داؤد کے گھرانے اور اولاد میں سے تھا تا کہ اپنی منگیتر مریم کے ساتھ جو حاملہ تھی نام لکھوائے جب وہ وہاں تھے تو ایسا ہوا کہ اس کے وضع حمل کا وقت آ پہنچا اور اس کا پہلوٹھا بیٹا پیدا ہوا اور اس نے اس کو کپڑے میں لپیٹ کر چرنی میں رکھا کیونکہ ان کے واسطے سرائے میں جگہ نہ تھی۔“ 54 (لوقا کی انجیل باب ۲ آیت ۳ تا ۷ ) ولادت مسیح کے متعلق ایک اقتباس متی کی انجیل سے پیش ہے جو ایم آر جیمز کی کتاب The Apocryphal New Testament published by Oxford University Association 1924۔میں اقتباس کیا گیا ہے اور اس انجیل کے ضروری حصوں کا انگریزی ترجمہ اس میں شامل کیا گیا۔اسی طرح وہاں پر اس انجیل کی تاریخ پر ایک نوٹ بھی موجود ہے۔اور اس سے معلوم ہوتا ہے که قدیم زمانہ سے یہ انجیل عیسائیوں میں رائج تھی اور اس کی روایات بھی قدیم سے ہی عوام الناس میں رائج چلی آتی ہیں۔چنانچہ اس قسم کی انجیل بعثت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل عیسائیوں میں رائج اور خصوصا عوام میں مقبول تھی چونکہ اناجیل اربعہ میں طفولیت مسیح کے مفصل واقعات نہیں پائے جاتے اس لئے اس کی کمی کو پورا کرنے کیلئے قدیم روایات کو بنیاد بنا کر یہ اناجیل حواریوں کے نام سے لکھی گئیں اور دیکھتے دیکھتے عوام میں رائج اور مقبول ہوگئیں عرب کے اھلِ کتاب کے پاس بھی ایک ایسی انجیل طفولیت مسیح کے نام سے موجود تھی اور یہ عربی ترجمہ تھی۔چنانچہ اس ایم آر جمیز کی کتاب میں جو اپا کر فل میں شامل ہے کہ صفحہ ۳ ۷ تا ۸۰ میں لکھا