حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 44 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 44

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل تو دیکھو کئی مجوسی پورب سے یروشلم میں یہ کہتے ہوئے آئے کہ یہودیوں کا بادشاہ جو پیدا ہوا ہے۔وہ کہاں ہے! کیونکہ پورب میں اس کا ستارہ دیکھ کر اسے سجدہ کرنے آئے ہیں یہ سنکر ہیرود لیس بادشاہ اور اس کے ساتھ یروشلم کے سب لوگ گھبرا گئے۔“ 44 (متی باب ۲ آیت ۳) سچ ہے! ایسے آسمانی وجودوں کی آمد پر جہاں خدائے رحمان کے بندے اُن کے متعلق بشارتیں پاتے ہیں وہاں شیطانی قوتیں پریشان ہو جاتی ہیں۔بسبب اس کے کہ وہ سمجھ جاتی ہیں کہ اب ان کا تسلط اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا۔چنانچہ لکھا ہے: اور دیکھو یروشلم میں شعمون نامی ایک آدمی تھا اور وہ آدمی راستباز اور خدا ترس اور اسرائیل کی تسلی کا منتظر تھا اور روح القدوس اُس پر تھا اور اس کو روح القدس سے آگاہی ہوئی تھی کہ جب تک تو خداوند کے مسیح کو دیکھ نہ لے موت کو نہ دیکھے گا“ اسی طرح لکھا ہے : (لوقا باب ۲ آیت ۲۵ - ۲۶) اس علاقے میں چرواہے تھے جو رات کو میدان میں رہ کر اپنے گلہ کی نگہبانی کر رہے تھے اور خداوند کا فرشتہ اُن کے پاس آکھڑا ہوا اور خداوند کا جلال ان کے چوگرد چپکا اور وہ نہایت ڈر گئے۔مگر فرشتے نے ان سے کہا کہ ڈرومت کیونکہ دیکھو میں تمہیں خوشی کی بشارت دیتا ہوں۔جو ساری امت کے واسطے ہوگی کہ آج داؤد کے شہر میں تمہارے لئے منجی پیدا ہوا ہے۔“ (لوقا باب ۲ آیت ۸ تا ۱۱)