حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 39
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل۔39 کی ایک انجیل جس کا نام اہیونیوں کی انجیل ہے۔اس میں لکھا ہے کہ حضرت عیسی ہارون کی نسل سے تھے۔(دیکھیں اپا کر فل نیوٹیسٹا منٹ از ایم اراجیمس صفحہ ۹) حضرت یحییٰ علیہ السلام کی والدہ اور حضرت زکریا علیہ السلام کی اہلیہ الصبات بھی اسی خاندان یعنی ہارون کی نسل سے تھی (لوقا : آیت ۵) حضرت مریم کی والدہ کا نام اناجیل اربعہ میں نہیں آیا لیکن عیسائی لٹریچر میں ان کا نام حتا بیان ہوا ہے۔وہ بھی اسی نسل سے تعلق رکھتی تھی یہ وجہ ہے کہ انجیل میں الیصبات اور حضرت مریم کو قریبی رشتہ دار بتایا گیا ہے۔(لوقا : آیت ۳۶) اور حتا اور الیصبات رشتہ میں بہنیں تھیں۔حضرت مسیح ناصری علیہ السلام چونکہ حضرت مریم کے بطن سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے اسی لئے آپکا خاندان بھی وہی ہوا جو آپ کی والدہ کا خاندان تھا یعنی آل عمران۔اور اس بات کی تصدیق قرآن کریم نے کی ہے۔اور انجیل بھی اس کی مصدق ہے۔دوسرے لفظوں میں یوں کہنا چاہئے کہ وہ خاندان جو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہ السلام جیسے عظیم الشان نبیوں سے شروع ہوا حضرت عیسی علیہ السلام پر آکر اس روحانی سلسلہ کا اختتام ہو گیا۔چنانچہ قرآن کریم میں اسی وجہ سے آل عمران کے روحانی اصطفاء کا ذکر بڑے شاندار الفاظ میں ملتا ہے۔اور بائیبل کے یہ بیانات بھی آپ کے خاندان کو روحانی منزلت رکھنے والا آل عمران کا خاندان قرار دیتے ہیں۔اب یہ دیکھنا چاہئے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کس خاندان کی طرف اپنے آپ کو منسوب فرماتے تھے۔اگر آپ کسی خاندان کی طرف اپنے آپکو منسوب نہیں فرماتے تھے تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو اس کی طرف منسوب نہیں کر سکتی۔انجیل میں جو آپ کو ابن داؤد کہا جاتا ہے اس کے متعلق آپ خود کیا کہتے ہیں۔اول تو انا جیل اربعہ میں ایک جگہ بھی ایسی نہیں ہے جہاں آپ نے خود کو ابن داؤد کہا ہو۔بلکہ اس کے برعکس انا جیل اربعہ میں آپ کا واضح انکار موجود ہے کہ میں ابن داؤد نہیں ہوں ! انجیل مرقس میں لکھا ہے کہ ایک اندھے نے یسوع مسیح کو ابن داؤد کے لقب سے پکارا اور