حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 34 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 34

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل - 34 صرف مریم کو سزا ملی ہارون کو سزا نہ ملی اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ ہارون کا نام بائیبل میں حسب معمول انبیاء پر اعتراض کرنے کے شوق میں درج کر دیا گیا ہے۔۔۔پس میرے نزدیک یا أُخْتَ هَرُونَ کہ کر انہوں نے طعنہ دیا ہے کہ اے ہارون کی بہن۔یعنی جس طرح اس مریم نے قہر مارا اور وہ کوڑھی ہو گئی تھی اس طرح تو نے بھی کوڑھیوں والا کا م کیا ہے۔پس ان الفاظ میں ان کی طعنہ زنی تھی۔کہ اس مریم نے بھی طوفان اٹھایا تھا تو نے بھی طوفان اٹھایا ہے۔اس نے موسیٰ پر بدکاری کا الزام لگایا تھا۔اور تو نے آپ بدکاری کی ہے۔حالانکہ تیرا باپ برا نہیں تھا۔اور تیری ماں بھی بری نہیں تھی۔پس تو نے یہ کیا گندا چھالا۔“ اسی طرح ایک مسیحی مصنف اپنی کتاب مسیح کی شان کے صفحہ ے پر لکھتے ہیں : ان پر خدا کی مار ہوئی اور آج بھی اُن مردود یہودیوں کے بعض ہمنوا اس پاکباز پر زبان طعن دراز کرتے ہیں۔اور اس لعنت میں شریک ہوتے ہیں۔جو یہودیوں کیلئے مقدر ہے۔“ چنانچہ ایک تو یہ طعن تھا جو یہودیوں کی طرف سے آپ پر کیا جاتا تھا کہ آپ نے نعوذ باللہ بدکاری کی تھی۔اور اسی وجہ سے غالباً یہودیوں کو خوش کرنے کیلئے انجیل نویسوں نے جا بجا ایسے بیانات رقم کئے ہیں جن سے حضرت مریم کا مقام کم درجہ کا معلوم ہو۔خصوصاً متی میں ایسے بیانات زیادہ ملتے ہیں۔کیونکہ متی کی انجیل خاص طور پر یہودیوں کیلئے اور یہودی نقطہ نظر سے لکھی گئی ہے۔اسی لئے اس میں عہد نامہ قدیم کی پیشگوئیاں دوسری انا جیل کی نسبت زیادہ چسپاں کرنے کی کوشش نظر آتی ہے۔لکھا ہے: ” جب وہ بھیٹر سے یہ کہہ ہی رہا تھا تو دیکھو اسکی ماں اور بھائی باہر کھڑے تھے اور اس سے بات کرنا چاہتے تھے۔کسی نے اس سے کہا دیکھ تیری ماں اور تیرے بھائی باہر