حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 25 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 25

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل - کم کر دی ہیں۔اور لوقا نے ۱۵ پشتیں زیادہ کر دی ہیں۔25 دونوں کے نسب ناموں میں ایک بڑا فرق یہ بھی ہے کہ متی نے یسوع کو داؤد کے بیٹے سلیمان کی اولاد سے قرار دیا ہے۔اور لوقا نے داؤد کے بیٹے ناتن کی اولاد سے قرار دیا ہے۔اس ضمن میں ایک دل چسپ بات یہ سامنے آئی ہے کہ قدیم زمانہ میں یہودیوں میں یہ بحث ہوا کرتی تھی کہ آنے والا مسیح داؤد کے کسی بیٹے کی نسل میں سے ہوگا۔بعض یہ کہتے تھے کہ وہ داؤد کے بیٹے سلمان کی نسل میں سے ہوگا اور کچھ یہ کہتے تھے کہ وہ داؤد کہ کسی بیٹے کی نسل سے بھی ہوسکتا ہے۔مندرجہ بالا تجزیہ سے یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ لوقا اور متی کے پیش کردہ نسب ناموں میں بہت اختلافات ہیں۔اور یہ اختلافات کسی خاص مقصد کے پیش نظر کئے گئے ہیں۔اور وہ مقصد اس کے سوا اور کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ تا کسی نہ کسی طرح قدیم پیشگوئیاں مسیح پر چسپاں ہو جائیں۔ان پیشگوئیوں میں سے چند ایک پیشگوئیاں جن کی بناء پر یہود میں یہ خیال پیدا ہو گیا کہ آنے والا مسیح داؤد کی نسل میں سے ہو گا مندرجہ ذیل ہیں: اوّل یسیاہ باب اا آیت ا میں لکھا ہے: ” اور ینسی کے تنے سے ایک کونپل نکلے گی اور ان کی جڑوں سے ایک بار آور شاخ پیدا ہوگی۔“ دوم یرمیاہ باب ۲۳ آیت ۵ میں لکھا ہے : دیکھ وہ دن آتے ہیں۔خداوند فرماتا ہے کہ میں داؤد کیلئے ایک صادق شاخ پیدا کروں گا۔“ سوئم: زبور باب ۱۳۲ آیت ا اور آیت ۱۳ میں لکھا ہے: ” خداوند نے سچائی کے ساتھ داؤد سے قسم کھائی ہے کہ وہ اس سے پھرنے کا نہیں