حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 242 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 242

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل - 66 و ہم پر افسوس اب ہمارے گناہوں کا کفارہ کس طرح ہوگا۔“ 242 ( جیوئش انسائیکلو پیڈیا جلد اول کالم اول بحوالہ ۴ اسد را باب ۹ آیت ۳۶) (Encyclopedia Judaica Jerusalem by Keter Publishing House Ltd۔1972 - Jerusalem - Israel) حالانکہ سابق انبیاء کا مقصد جانوروں کی قربانی سے صرف نفس کی قربانی کی طرف توجہ مبذول کرانا تھا جو یہود بھول گئے تھے۔چنانچہ بعد کے انبیاء نے اسی کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی جیسا کہ ہوسیع باب ۱۴ کی آیت ۳ اور باب کی آیت ۲۲ اور آیت ۲۴ نیز یسعیاہ باب ۶ آیت ۶ - ۸، باب ا آیت ۱۹۱۶ میں صاف طور پر لکھا ہے: کہ اب تم ہونٹوں کے بچھڑے نذر گر دانو “ یعنی مناجات کرو۔نیز فرمایا: پاتا ہے۔" کہ عام بچھڑا یا بکرا کفارہ نہیں بنتا بلکہ تو ب اور تیج اور تحمید سے انسان گناہ کے اثر سے نجات نیز فرمایا: ”کہ اب آگے کو جھوٹے ہدیے مت لاؤ اور فرمایا: کہ اپنے تئیں دھود اور آپ کو پاک کرو اپنے برے کاموں کو میری آنکھوں کے سامنے سے دور کرو، بد فعل سے باز آؤ ، نیکو کاری سیکھو، انصاف کے پیرو ہو جاؤ ، مظلوموں کی مدد کرو، یتیموں کی فریاد رسی کرو، بیواؤں کے حامی ہو جاؤ۔اب آؤ کہ ہم با ہم حجت کریں۔خداوند کہتا ہے اگر چہ تمہارے گناہ قرمزی ہوویں پر برف کی مانند سفید ہو جائیں گے اور ہر چندوے ارغوانی ہوویں پر اُون کی مانند جلے ہو جائیں گے۔“ چنانچہ بکروں ، بیلوں اور پلوٹھوں کی قربانی کی عظمت تو یہود کے دلوں سے کچھ کم ہوئی مگر ایک اور قسم کا کفارہ انہوں نے ایجاد کر لیا۔اور وہ یہ کہ ہمارے بزرگوں کی تکالیف ہماری قوم کے