حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 243
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعولی از روئے قرآن و انجیل۔243 گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہیں۔یہی خیال تھا جس نے بعد میں مسیحی کفارہ کے عقیدہ کے بننے میں مدد کی۔حالانکہ انبیاء یہود بھی قرآن کریم کے بیان کردہ اصولوں کو مانتے تھے۔کہ: وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى۔(سورة بنی اسرائیل : آیت ١٦ ) کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائی گی۔مسیحیوں نے یہ عقیدہ اختیار کر لیا کہ مسیح نے صلیب پر جان دے کر مسیحیوں کے گناہوں کو اٹھا لیا۔اور موسیٰ نے جس قربانی کا حکم دیا تھا وہ دراصل مسیح کی آمد کی خبر تھی اور مراد اس سے یہ تھی کہ خدا کا ایک بڑہ یعنی مسیح دنیا میں آکر قربان ہوگا۔اور دنیا کے گناہ اٹھا لے گا۔وہ کہتے ہیں کہ ایک برہ میں یہ طاقت نہیں کہ وہ دوسروں کے گناہ اٹھالے لیکن خدا کے بیٹے میں یہ طاقت ہے کہ وہ دوسروں کے گناہ اٹھالے۔وہ یہود کے اس خیال کو کہ وہ ان کے بزرگوں نے قربانیاں دیکر ان کے گناہ کا کفارہ ادا کر دیا اسطرح تبدیل کر دیا اور کہنے لگے کہ وہ بزرگ بہر حال گناہ گار تھے اور گناہ گار گناہ گار کا بوجھ کیسے اٹھا سکتا ہے۔پس مسیح جو بے گناہ تھا وہ اس قابل تھا کہ دوسروں کے گناہ اٹھائے چنانچہ وہ دوسروں کے گناہوں کی وجہ سے صلیب پر لٹکایا گیا۔نیز کفارہ مسیح کی نسبت وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ گناہ انسان کو آدم کے گناہ کے نتیجہ میں ورثہ میں ملا لیکن چونکہ مسیح بلا باپ تھے اس لئے وہ آدم کے گناہ کے وارث نہ تھے چنانچہ بوجہ بے گناہ ہونے کے وہ انسانوں کے گناہوں کا کفارہ ہو سکتے تھے۔عجیب بات ہے کہ مسیح کے بے گناہ ہونے اور صلیب پر چڑھ کر لوگوں کے گناہ اٹھا لینے کے متعلق حضرت مسیح علیہ السلام کا اپنا قول کہیں بھی منقول نہیں ہے کیونکہ حضرت مسیح کی تعلیم سراسر اس کے خلاف ہے البتہ حواریوں کے بعض اقوال ہیں جن سے سمجھ لیا گیا ہے کہ آپ تو رات کی رو سے بوجہ صلیب پر لٹکائے جانے کے (نعوذ باللہ ) لعنتی موت سے فوت ہوئے تھے اور یہ موت دوسرے