حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 23 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 23

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل۔23 کا اور وہ شمعون کا اور وہ یہوداہ کا اور وہ یوسف کا اور وہ یونان کا اور وہ الیا قیم کا اور وہ ملے آہ کا اور متاہ کا اور وہ متناہ کا اور نائن کا اور وہ داؤد کا اور وہ میسی کا اور وہ عوبید کا اور وہ بوعز کا اور وہ مسلمون کا اور وہ نحسون کا اور وہ عمید اب اور وہ ارنی کا اور وہ حصروں کا اور وہ فارص کا اور وہ یہوداہ اور وہ یعقوب کا اور وہ اضحاق اور وہ ابراھام کا اور وہ تارہ کا اور وہ نحو رکا اور وہ سروج کا اور وہ رعد کا اور وہ فلج کا او وہ عمر کا وہ سلح کا اور وہ قینان کا اور وہ ارفکسد کا اور وہ سم کا اور وہ نوح کا اور وہ لمک اور وہ متوسلح کا اور وہ حنوک کا اور وہ یا رد کا اور وہ مہلل ایل کا اور وہ قینان کا اور وہ انوس کا اور وہ سیت کا اور وہ آدم کا اور وہ خدا کا تھا۔“ حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف منسوب نسب نامے اناجیل اربعہ میں سے صرف متی اور لوقا نے لکھے ہیں اور مرقس اور یوحنا نے اس بارہ میں میں خاموشی اختیار کی ہے۔ان دونوں نسب ناموں میں جو دراصل آپ کے قانونی باپ یوسف کے ہیں۔یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ یوسف ابن داؤد خاندان یہوداہ ابن یعقوب سے تھا۔لہذا آپ یعنی حضرت عیسی علیہ السلام بھی ابن داؤد ہوئے۔حالانکہ انجیل اس بات پر فخر کرتی ہے کہ آپ بے باپ تھے اور یوسف کی صلب سے نہیں تھے۔علاوہ ازیں متی نے اپنے نسب نامہ میں یسوع مسیح سے حضرت ابراہیم علیہ السلام تک چالیس پشتیں لکھی ہیں۔جبکہ متی ہی کے نسب نامہ کے بعد بیان کردہ آیات ۱۷ کے تحت ۴۲ پیشیں بننی چاہئیں تھیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قدیم پیشگوئیوں کے مطابق ۱۴ کے عدد کو کوئی خاص اہمیت حاصل تھی تبھی تو اس کا ذکر خاص طور پر کیا گیا ہے۔اور ۱۴ ۱۴ کی تعداد کو پورا کرنے کیلئے اصل نسب ناموں میں کمی بیشی بھی کی گئی ہے۔مثال کے طور پر اخز یا۔یو س اور امصیاہ کامتی کے نسب نامہ میں سرے سے کوئی ذکر نہیں ملتا۔جبکہ عہد نامہ قدیم میں تواریخ اول کے باب ۳ آیت ۱۱۔۱۲ میں لکھا ہے: یورام اس کا بیٹا اختر یا اسکا بیٹا یو س اس کا بیٹا امیصاہ اس کا بیٹا عز ریاہ۔۔66