حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 146 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 146

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 146 بداعمالیوں کا دروازہ کھل گیا۔چنانچہ ابتدائی دور میں شریعت سے آزاد ہوتے ہی جب عیسائیوں میں بدعملی بہت بڑھ گئی اور بدکاری عام ہوگئی تو پولوس کو ہی ایک موقع پر بادل نخواستہ کہنا پڑا: ” یہاں تک سننے میں آیا ہے کہ تم میں حرامکاری ہوتی ہے بلکہ ایسی حرامکاری جو غیر قوموں میں بھی نہیں ہوتی۔چنانچہ تم میں سے ایک شخص اپنے باپ کی بیوی کو رکھتا ہے اور تم افسوس تو کرتے نہیں تا کہ، جس نے یہ کام کیا، تم میں سے نکالا جائے بلکہ شیخیاں مارتے ہو۔“ (کرنتھیوں باب ۵ آیت ۱-۲) عجیب بات ہے گھل مل جانے کے بعد تو یہی کچھ ہونا تھا اور ہورہا ہے۔افسوس وہ کیوں کرتے اور شیخیاں وہ کیوں نہ بگھارتے کہ خود ہی تو پہلے شریعت کو لعنت قرار دیکر ان کو شریعت سے آزاد کیا اور انکی فطرت صحیحہ کو سخ کر دیا اور اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔