حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 147
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل 147 حضرت مسیح علیہ السلام کے دعوی امنیت کی حقیقت اللہ تعالیٰ نے انسانی بقا کیلئے توالد و تناسل کا سلسلہ جاری فرمایا ہے نیز کمزور انسان اپنے بڑھاپے میں کسی سہارے کا محتاج ہے لہذا جو اولاد ہوتی ہے وہ اس کا سہارا بن جاتی ہے خصوصاً بیٹے پیری کا عصا ہو جاتے ہیں۔اس کے مرنے کے بعد اس کی یاد گار بھی۔لیکن بعض لوگ خدا کے بیٹے بھی تجویز کرتے ہیں اور اگر خدا کا بیٹا تصور بھی کر لیں تو وہ سب تصورات ابھرنے لگتے ہیں جو کسی وجہ سے بیٹے کی ضرورت ہوتی ہے پھر سوچنا پڑتا ہے کہ کیا خدا اپنی سلطنت کا انتظام خود اکیلا نہیں چلا سکتا ؟ کیا اس میں کسی وقت ضعف و بڑھا پا پیدا ہوگا اور کیا کسی ضعیفی اور نا توانی کے باعث وہ کسی سہارے کا محتاج ہے یہ سب سوال پیدا ہوتے ہیں پھر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ خدا ایسا کمزور ہے تو پھر اس سے انسان کو کیا فائدہ؟ سو جاننا چاہئے کہ قرآن کریم کسی ایسے کمزور خدا کو ماننے کیلئے ہرگز تیار نہیں ہے اور وہ برداشت ہی نہیں کرتا کہ ایسا تصور ابن اللہ کا مانا جائے۔یا خدا کو کسی طرح سے بھی ذات وصفات میں کمزور سمجھا جائے۔وہ اپنی صفات وذات میں از روئے قرآن یگا نہ بھی ہے اور وہ اپنی حکومت و سلطنت میں بھی کوئی اپنا ثانی یا شریک نہیں رکھتا۔اس سلسلہ میں فرماتا ہے: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ ٥ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ o اللَّهُ الصَّمَدُه لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌه (سورة الاخلاص)