حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 123
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل۔دیا 123 نے گواہی دی ہے ان کو وہ بہپیسہ دیتا ہے اور لوگ اس کے پاس آتے ہیں۔اس پر یوحنا نے جواب انسان کچھ نہیں پاسکتا جب تک اس کو آسمان سے نہ دیا جائے۔۔۔۔تم خود میرے گواہ ہو کہ میں نے کہا کہ میں مسیح نہیں بلکہ اس کے آگے بھیجا گیا ہوں۔میری یہ خواہش پوری ہوئی ضرور ہے کہ وہ بڑھے اور میں گھٹوں۔“ ( یوحنا باب ۳ آیات ۲۴ تا ۲۹) انا جیل میں آپ کے اعلان ماموریت کے زمانہ کے متعلق بھی اختلافات ہیں انجیل ایک طرف ہے اور تین اناجیل ایک طرف البتہ یوحنا کا بیان یہاں زیادہ درست معلوم ہوتا ہے کہ دونوں اپنے اپنے علاقہ میں تو رات کی صحیح تعلیم لوگوں میں پھیلاتے تھے اور جب یوحنا پکڑ وادئے گئے تو آپ نے اپنی تبلیغ کو اور وسعت دی جس کی وجہ سے آپ کو بھی واقعہ صلیب سے دوچار ہونا پڑا۔حضرت مسیح علیہ السلام کی چلہ کشی یعنی مجاہدہ روحانی بپتسمہ لینے کے بعد اور نبوت کی عام منادی سے قبل آپ نے ایک چلہ کشی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سنت کے مطابق کی۔اس روحانی مجاہدہ کے متعلق لکھا ہے: اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ پہاڑ پر میرے پاس آ اور وہیں ٹھہرا رہ۔۔۔۔اور پہاڑ پر چالیس دن اور چالیس راتیں رہا۔“ ( خروج باب ۲۵ آیات ۱۲ تا ۱۸) آپ سے جو آزمائشیں شیطان نے لیں اس میں سب سے قبل یہ کہ اس نے پتھروں کو روٹی بنانے کیلئے کہا۔آپ نے جو جواب دیا اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کا رزق انسان کیلئے صرف کافی نہیں کلام الہی پر عمل کرنا ہی اصل زندگی ہے۔دوسرے بلندی سے چھلانگ لگانے سے انکار میں بھی آپ کے ذریعہ بتایا گیا کہ تقدیر عام پر دین بجز اختیار کرتے ہوئے چلنا چاہئے تقدیر خاص کا متمنی نہیں ہونا چاہئے اگر اللہ تعالیٰ مہربانی فرما دے تو اس کی طرف سے احسان ہے۔تیسرے