حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 82 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 82

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل - 82 دلچسپ توجیح کرتے تھے۔یعنی ” آئے ایش، یعنی خدا کے روپ میں اس لئے آپ عیسی کہلائے۔(ملاحظہ فرمائیں جیز زان روم آخری باب از رابرٹ گریوز اینڈ یشوعا پوڈر ومطبوعہ۔Cassel & Co (1957۔ان تمام شواہد سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا نام عیسی تھا۔اس نام سے حضرت مریم کو بشارت ملی۔نیز ابتدائی عیسائی آپ کو اسی نام سے پکارتے تھے اور خود کو عیسائیو کہتے تھے۔مشرق و مغرب میں آپ عیسی اور یسوع کے نام سے مشہور ہوئے۔اب اناجیل کے کچھ اور بیان کردہ ناموں کا جائزہ لیتے ہیں۔مثلاً ” عمانویل“ اور آپ کا ناصری“ کہلا نا متی کا انجیل نویس کہتا ہے کہ خداوند نے یسعیاہ بنی کی معرفت کہا تھا کہ : ”دیکھو ایک کنواری حاملہ ہوگی اور بیٹا جنے گی اور اس کا نام عمانویل رکھیں گے۔“ (دیکھو یسع یا باب ۷ آیت ۱۴) مگر عجیب بات ہے کہ جب یسوع اپنی ماں کے پیٹ میں تھے تو فرشتہ نے اس پیشگوئی کے برخلاف اس کا نام یسوع رکھ دیا جیسا کہ متی باب ایک آیت ۲۱ اور لوقا باب ۲ آیت ۲۱ کے مطابق آپ کا نام یسوع رکھا گیا تھا۔اگر عما نویل والی پیشگوئی یسوع کے متعلق ہی تھی تو آپ کا نام یسوع کیوں رکھا گیا تھا ؟ عمانویل کیوں نہیں رکھا گیا تھا ؟ اور باقی کی تینوں اناجیل عمانویل والی پیشگوئی کے متعلق ذکر بھی نہیں کرتیں اور بالکل خاموش ہیں۔معلوم ہوا کہ پیشگوئیاں چسپاں کرنے کی یہ ایک اور متی کی کوشش ہے جو بری طرح ناکام ہو گئی ہے۔جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ پیشگوئی کے متعلق ذکر بھی نہیں کرتیں اور بالکل خاموش ہیں۔یہ پیشگوئی تو یسعیا نبی کو اپنے بیٹے کی پیدائش کے بارہ میں دی گئی تھی اور جو بموجب باب ۸ آیت ۳ کے پوری بھی ہو چکی تھی۔لیکن متی کے انجیل نویس نے پیشگوئیوں کو مسیح پر چسپاں کرنے کے اپنے شوق کو یہاں ایک دفعہ پھر پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔اسی طرح متی نے لکھا ہے کہ ” ناصرہ میں یسوع جالسا تا کہ نبیوں کی معرفت جو کہا گیا تھا کہ