حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 76 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 76

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل۔۔۔۔۔اس نے پہلے اپنے سگے بھائی شمعون سے ملکر اس سے کہا کہ ہم کو خرستیں یعنی مسیح مل گیا۔(یوحنا باب (آیت ۴۱)۔۔۔۔۔عورت نے اس سے کہا کہ میں جانتی ہوں کہ مسیح جو خرستس کہلاتا ہے آنے والا ہے جب وہ آئے گا تو ہمیں سب باتیں بتا دے گا۔یسوع نے اس سے کہا کہ میں جو (یوحنا باب ۴ آیت ۲۶) 76 تجھ سے بول رہا ہوں وہی ہوں۔قرآن کریم نے آپ کا نام مسیح عیسی ابن مریم لکھا ہے اور آپ کے لئے مسیح اور عیسی کا نام علیحدہ بھی استعمال کیا ہے اور آپ کے حواری بھی آپ کو عیسی کے نام سے یاد کرتے تھے اور عیسی ہی آپکاذاتی نام تھا۔مسیح آپ کا صفاتی نام تھا اگر ہم اصلی ہے تو مَسَحَ سے ہے جو ممسوح کے معنے میں ہے یا آپ کی سیاحت کی وجہ سے سائح کے معنوں میں ہے۔اور اناجیل میں آپ کو یسوع مسیح کہا گیا ہے۔فرشتہ نے یسوع نام رکھنے کیلئے یوسف کو تاکید کی تھی اور آپ کا نام بھی یہی رکھا گیا تھا اور اس وقت کے یہودی بھی آپ کو یسوع ہی کے نام سے یاد کرتے تھے۔نیز آپ نے اپنے آپ کو مسیح بھی ظاہر کیا ہے اور آپ کے حواری آپ کو خرستس یعنی مسیح کہتے تھے اور عوام الناس میں بھی خرستس یعنی مسیح کے نام سے معروف ہوئے۔ان اسماء کے متعلق کتاب The Book of Knowledge by Gorden Stewert (مطبوعہ 1955۔The Waverly Book Co۔Ltd) میں لفظ Jesus christ کے نیچے لکھا ہے: "Jesus is the name by which he was known on the earth۔It is from the greek form of old hebrew name Joshua۔"Christ" is a title rather than a name۔The word kristos is the greek form of another Hebrew word Mashiach or Messiah, which means "The anointed one"