حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 62
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل - 62 ٹھیک ٹھیک دریافت کر کے ان کو تیرے لئے ترتیب سے لکھوں تا کہ جن باتوں کی تو نے تعلیم پائی ہے ان کی پختگی تجھے معلوم ہو جائے۔“ (لوقا باب ایک آیت ۳ اور ۴ ) مصر کے سفر کا واقعہ لوقا کی کاوشوں اور تحقیقات کے نتیجہ میں بھی درست ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اس نے اس کا ذکر نہیں کیا جبکہ لوقا کی انجیل متی کی انجیل کے بعد لکھی گئی ہے اور لوقا کے سامنے متی کا بیان سفر مصر کے سلسلہ میں موجود تھا تیسرے متی کا مصنف ایک پیشگوئی کو سچا ثابت کرنے کیلئے مسیح اور ان کے والدین کو مصر لے گیا ہے اور ممکن ہے اس واقعہ کے بیان کرنے سے اس کی غرض آپ کو حضرت یعقوب سے مشابہت دینا ہو جیسا کہ وہ لکھتا ہے: ”دیکھو خداوند کے فرشتہ نے یوسف کو خواب میں دکھائی دیکر کہا کہ اُٹھ بچے اور اس کی ماں کو ساتھ لیکر مصر کو بھاگ جا اور جب تک کہ میں تجھ سے نہ کہوں وہیں رہنا۔کیونکہ ہیرود لیں اس بچے کو تلاش کرنے کو ہے تا کہ اسے ہلاک کرے۔پس وہ اٹھا اور رات کے وقت بچے اور اس کی ماں کو ساتھ لیکر مصر کو روانہ ہو گیا اور ہیرودیس کے مرنے تک وہیں رہا تا کہ جو خداوند نے نبی کے معرفت کہا تھا وہ پورا ہو کہ مصر میں سے میں نے اپنے بیٹے کو بلایا۔66 پھر لکھا ہے: وو ” جب ہیرودیس نے دیکھا کہ مجوسیوں نے میرے ساتھ ہنسی کی ہے تو نہایت غصے ہوا اور آدمی بھیج کر بیت لحم اور اس کی سب سرحدوں کے اندر کے ان سب لڑکوں کو قتل کروا دیا جو دو۔دو برس کے تھے یا اس سے چھوٹے تھے اس وقت کے حساب سے جو اس نے مجوسیوں سے تحقیق کی تھی اس وقت وہ بات پوری ہوئی جو یرمیاہ نبی کی معرفت کہی گئی تھی کہ: