حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 59 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 59

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل باپ پیدا ہونے کی بشارت ملی۔فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهِ مَكَانًا قَصِيَّاه (سورة مريم : آیت (۲۳) 59 59 یعنی تب مریم نے اپنے پیٹ کے بچہ کو اٹھا لیا اور پھر اس کو لے کر ایک دور کے مکان کی طرف چلی گئی۔حضرت مریم علیہ السلام نے اور یوسف نے حمل کو چھپانے کی غرض سے اور اس لئے کہ تا قوم کے طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بنیں دور کا سفر اختیار کیا تھا۔مشرق کو اہل یہود کے ہاں خاص اہمیت حاصل ہے۔وہ مشرق کو مقدس جانتے ہیں اور اس لئے یہود اور عیسائی اپنی عبادت گاہوں کو بھی اس طرز سے تعمیر کرتے ہیں کہ مشرق کی طرف ان کا منہ ہو۔لوقا کی انجیل میں سفر کا ذکر تو ہے مگر غرض سفر مردم شماری میں نام لکھا نا بیان کی گئی ہے لکھا ہے: ان دنوں میں ایسا ہوا کہ قیصر السطس کی طرف سے حکم جاری ہوا کہ ساری دنیا کے لوگوں کے نام لکھے جائیں۔یہ پہلی اسم نویسی سوریہ کے حاکم کورینس کے عہد میں ہوئی۔سب لوگ نام لکھوانے کیلئے اپنے اپنے شہر کو گئے۔پس یوسف بھی گلیل کے شہر ناصرہ سے داؤد کے شہر بیت لحم کو گیا جو یہودیہ میں ہے اس لئے کہ وہ داؤد کے گھرانے اور اولاد سے تھا تا کہ اپنی منگیتر مریم کے ساتھ جو کہ حاملہ تھی نام لکھوائے۔“ (لوقا کی انجیل باب ۲ آیت ایک تا۴ ) عجیب بات ہے کہ روما کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسیح علیہ السلام کی پیدائش کے سن میں کوئی مردم شماری نہیں ہوئی۔جو زیفس جو مسیح کے زمانے کا سب سے بڑا مؤرخ ہے وہ یہ لکھتا ہے کہ پہلی مردم شماری ہوئی ہی سن ہے، میں تھی اور اس سے سات سال قبل کوئی مردم شماری نہیں ہوئی۔وہ لکھتا ہے کہ یہ مردم شماری یہود کیلئے اتنی نئی چیز تھی کہ وہ حیران ہوتے تھے اور تعجب کرتے تھے کہ یہ مردم شماری کیوں کروائی جارہی ہے اور اس سے کیا غرض ہے۔اگر سات سال قبل بھی کوئی مردم شماری ہوئی ہوتی تو یہود اتنے حیران نہ ہوتے۔علاوہ ازیں تاریخ سے بھی