حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 50 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 50

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل - 50 میں انہوں نے یہ کہا ہے کہ ان کا بچہ خود بخود ہوا ہے۔اور اس کی پیدائش میں کسی بھی مرد کا عمل دخل نہیں۔اس کے بعد ۲۸ دسمبر کے رسالہ میں ایسی ہی انہیں خواتین نے اس امر کی مزید شہادات پیش کی ہیں۔ان مذکورہ بالا تاریخی اور ڈاکٹری شواہد سے یہ بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ بغیر باپ کے پیدائش ہونا نا ممکن نہیں ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام بھی بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے۔قرآنی اور انجیلی بیانات بھی اس امر میں متفق ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آخر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام کو کس حکمت کے تحت بغیر باپ کے پیدا فرمایا؟ در اصل جو وعدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ان کی نسل کے متعلق فرمایا تھاوہ بنی اسرائیل اور بنو اسماعیل دونوں کیلئے تھا۔چنانچہ پیدائشی باب ۱۷ آیت ۷ تا ۲۱ لکھا ہے: دیکھ میرا عہد تیرے ساتھ ہے اور تو بہت قوموں کا باپ ہوگا۔تو اپنے بدن کی کھلی کا ختنہ کیا کرنا اور یہ اس عہد کا نشان ہوگا۔۔۔۔تیری بیوی سارہ کے تجھ سے بیٹا ہوگا تو اس کا نام اضحاق رکھنا اور پھر میں اُس سے اور اس کی اولاد سے اپنا عہد جو ابدی عہد ہے باندھوں گا اور۔۔۔۔اسماعیل کے حق میں بھی میں نے تیری دعاسنی۔دیکھ میں اُسے برکت دوں گا اور اُسے برومند کروں گا اور اسے بہت بڑھاؤں گا۔“ پس جانا چاہئے کہ اس میں اضحاق کا ذکر پہلے ہے اور اسماعیل کا ذکر بعد میں کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں پہلے برکت خداوندی کا نزول ہوگا اور جب تک وہ عہد کا پاس رکھیں گے اللہ تعالیٰ بھی اپنا عہد ان سے نبھائے گا۔لیکن جب وہ اس عہد سے لاپر واہ ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ اپنے عہد کے مطابق اپنی برکات کا نزول حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں منتقل کر دے گا۔جیسا کہ استثناء باب ۱۸ آیت ۱۵ میں لکھا ہے: ” خداوند تیرا خدا تیرے لئے تیرے ہی درمیان سے تیرے ہی بھائیوں (یعنی بنی