حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 248
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 248 گھنٹے میں ایک نوجوان صلیب پر مرنہیں سکتا اس وجہ سے پیلاطوس نے حیرانگی کا ظہار کیا مگر بعد میں خاموش ہو گیا ( جب اصل بات معلوم ہو گئی )۔یوسف آرمیتیا نے آپ کو ایک چٹان میں کھدی ہوئی غار نما قبر میں رکھا جو اس کے باغ میں تھی اور نفقو دیمس نے ، جو یسوع کا شاگر داور حکیم تھا، مر ہم حوار بین یا مرہم عیسی تیار کی اور آپ کے جسم پر لگائی اور آپکو کپڑے میں لپیٹ دیا گیا کہ آپ کو زخموں سے آرام آجائے اور مکمل شفا ہو جائے۔پھر ہوش آنے پر آپ کو وہاں سے نکال لیا گیا۔اتوار کو مریم مگر لینی گئی تو نہ پایا ( یوحنا باب ۲۰ آیت ۲۰) وہ جب وہاں سے مڑی تو یسوع کو کھڑے دیکھا اور نہ پہنچانا کہ یسوع ہے یسوع نے اس سے کہا کہ اے عورت تو کیوں روتی ہے کس کو ڈھونڈتی ہے۔اس نے باغبان سمجھ کر اس سے کہا میاں اگر تو نے اس کو یہاں سے اٹھایا ہو تو مجھے بتا دو۔یسوع نے اس سے کہا: مریم! اس نے مڑ کر اور پہچان کر عبرانی میں کہا ر بونی اے استاد۔پھر آکر حواریوں کو بتایا کہ میں نے خداوند کو دیکھا اور باتیں کیں۔“ (لوقا باب ۲۴ آیت ۳) پھر آپ حواریوں کو ملے۔پکڑے جانے کے خوف سے آپ باغبان کے لباس میں تھے اس لئے پہچانے نہ گئے۔آپ کے علاج معالجے کے متعلق سب کو معلوم بھی نہ تھا جیسا کہ یوحنا باب ۹ آیت ۳۸۔۴۱ میں ذکر ہے۔شاگردوں کے یقین دلانے کے لئے کہ وہ زندہ ہیں اور حضرت یونس کے مشابہ معجزہ وقوع پذیر ہو گیا ہے۔ان کو کہا: کہ مجھے چھو کر دیکھو روح کو جسم اور ہڈی نہیں جیسا کہ مجھ میں جسم اور ہڈی دونوں دیکھتے ہو۔“ ساتھ ہی ہاتھ اور پیروں کے زخم دکھائے تاکہ یقین ہو جائے کہ مسیح جسم سمیت زندہ ہے۔