حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 247 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 247

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل نشان نہیں دیا جائے گا۔اور یونس مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہے اور زندہ ہی نکالے گئے۔247 (متی باب ۱۲ آیت ۳۹) ( یوناه باب ۲ آیت ۱ تا ۱۰) اور خدا ترسی کے سبب سے آپ علیہ السلام کی دعائیں بھی سنی گئیں تھیں اور صلیب پر زندہ رہے تھے اور زندہ ہی اتارے گئے تھے۔اور اللہ تعالیٰ نے بھی آپ کو بچانے کے لئے تدبیر شروع کر دی تھی۔پیلاطوس کی بیوی کو خواب آیا: 66 اگر مسیح ہلاک ہو گیا تو پھر تم ہلاک ہو جاؤ گے۔“ ( متی باب ۲۷ آیت ۱۹) لیکن چونکہ وہ ہلاک نہیں ہوئے اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسیح بیچالئے گئے تھے۔پیلاطوس نے یہ تدبیر کی کہ جمعہ کے دن چھٹے گھنٹے صلیب پر چڑھایا اور نویں گھنٹے اتار لیا۔متی باب ۲۷ آیت ۴۵-۵) اندھیرا اور بھونچال دیکھ کر سب لوگ بھاگ گئے۔(متی باب ۵۴ لوقا باب ۲۳ آیت ۴۸ ) اس اثناء میں آپ کو اتار کر کہیں منتقل کرنا آسان ہو گیا۔آپ کی ہڈیاں بھی توڑی نہیں گئیں جبکہ ساتھ کے دو چوروں کی ہڈیاں توڑی گئیں۔( یوحنا باب ۱۹ آیت ۱۳-۳۳) ایک سپاہی نے یسوع کی پہلی بھالے کی نوک سے چھیدی تو اس سے خون اور پانی نکلا ( یوحنا باب ۱۹ آیت (۳۴) ظاہر ہے کہ مردہ کے جسم سے خون اسطرح بہہ نہیں نکلتا۔یوسف آرمیتیا جو نامور مشیر تھا اور خود خدا کی بادشاہی کا منتظر تھا پیلاطوس سے مانگ کر آپ کا جسم لے گیا ( مرقس باب ۱۵ آیت ۴۳ ۴۴) اور جب اس نے نعش مانگی تو یہ لفظ مصلحۂ بولا کیونکہ تین