حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 244 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 244

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل - گناہ گاروں کے لئے تھی تا کہ وہ ان کے لئے کفارہ ہو جائیں۔حضرت مسیح علیہ السلام خود بدلے کی قربانی بصورت کفارہ کے قائل نہیں۔فرماتے ہیں: ” اور جو کوئی اپنی صلیب اٹھا کے میرے پیچھے نہیں آتا میرے لائق نہیں۔“ 244 ( متی باب ۱۰ آیت ۳۸) یعنی آپ نے ہر شخص کا خود اپنی صلیب اٹھا کر پیچھے آنا ضروری قرار دیا ہے۔یعنی نجات کے لئے ہر ایک کا اپنے گناہوں کی پاداش میں خود دکھ اٹھانا ضروری قرار دیا ہے۔یہ نہیں کہ مسیح کا صلیب پر لٹکنا دوسروں کی نجات کا ذریعہ بن گیا ہے چنانچہ خروج باب ۳۲ آیت ۳۳ میں لکھا ہے: جس نے میرا گناہ کیا ہے میں اس کے نام کو اپنے دفتر سے مٹا دوں گا۔“ مسیحی کفارہ کی بنیاد اس بات پر بھی رکھی گئی ہے کہ انسان کو ورثہ میں گناہ ملا اس لئے وہ اس پر غالب نہیں آسکتا۔گویا انسان کی فطرت ہی گناہ گار ہے۔یہ بات ایسی ہے کہ جو عملاً درست ثابت نہیں ہوتی۔بائیبل سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے وجود ایسے ہوئے ہیں جو بے گناہ تھے پس نہ یہ بات درست ہے کہ سب گناہ گار پیدا ہوئے بوجہ ورثے کے گناہ کے اور نہ یہ بات درست ہے کہ کفارہ پر ایمان لائے بغیر کوئی پاک نہیں ہوسکتا۔لکھا ہے: ” نوح اپنے قرنوں میں صادق اور کامل تھا اور نوح خدا کے ساتھ ساتھ چلتا تھا۔“ ( پیدائش باب ۶ آیت ۹) نوح نے خدا کے لئے ایک مدیح بنایا اور اسمیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی۔جب نوح نے عبادت کی تو خداوند نے خوشنودی کی بو سونگھی اور خداوند نے اپنے دل میں کہا کہ انسان کے لئے میں زمین کو پھر کبھی لعنت نہ کروں گا۔“ ( پیدائش باب ۸ آیت ۲۱)