حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 237
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل - 237 گیارھویں دلیل: ایک اور بات نہایت قابل غور ہے کسی چیز کا کسی چیز سے ہونا تین طرح کا ہو سکتا ہے۔اوّل: خالق سے مخلوق ہونا۔خالق اپنی پوری طاقت اور کامل قوت سے ایک سے ایک چیز پیدا کرے۔دوئم : ایک چیز کے دو یا کئی ٹکڑے ہو جائیں تو یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ ٹکڑے فلاں چیز سے پیدا ہو گئے ہیں۔سوم: کیمیاوی طور پر دو چیزوں کے ملنے سے تیسری وقوع پذیر ہو جائے۔ظاہر ہے کہ قانونِ قدرت میں یہی ہوتا ہے کہ دو یعنی نر اور مادہ کے باہم ملنے سے جنین بنتا ہے۔اب اس تمہید کے بعد غور کریں کہ قرآن کریم حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا کا بیٹا کہنے پر کس طرح ملزم قرار دیتا ہے۔فرمایا: أَنَّى يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُنْ لَّهُ صَاحِبَةٌ ترجمہ: اس کی کوئی اولاد کہاں سے ہوگئی جب کہ اُس کی کوئی بیوی ہی نہیں۔(سورة الانعام : آیت ۱۰۲) مطلب یہ ہے کہ اے نادانو! خدا کا بیٹا کہتے ہو۔اگر وہ مخلوق الہی ہے تو کوئی بحث نہیں ہے اس سے بھی اتفاق ہے اور اگر کہا جاوے کہ وہ خدا کا جزء ہے تو تم اس کو تسلیم نہیں کرتے۔اب رہی تیسری بات کہ خدا کی کوئی بیوی ہو۔اور وہ دونوں ملیں تو تب ایک تیسر ا وجود یعنی مسیح ظہور پذیر ہو۔لیکن اس کا بھی تم انکار کرتے ہو۔خدا کی کوئی صاحبہ (بیوی) نہیں مانتے۔سو تم نہ تو مسیح کو خدا کی مخلوق مانتے ہو نہ اس کا ٹکڑا اور نہ اس کو دو چیزوں کا نتیجہ تو پھر اور کون سا ذریعہ ہے جس سے میسج کو ابن اللہ سمجھا جائے۔بارھویں دلیل: حضرت مسیح کے اعتقاد کے مطابق عہد نامہ قدیم مقدس کتاب