حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 238
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل - 238 ہے۔جس کا باطل ہو نا ممکن نہیں۔حضرت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہ نہ سمجھو کہ میں تو رات کو منسوخ کرنے آیا ہوں۔اب تو رات میں وضاحنا وصراحتا خالص تو حید کی تعلیم دی گئی ہے اور یہ تو حید کی مدعی ہے۔تثلیث کا یا واحد خدا کے علاوہ کسی اور کا تصور وہاں پایا نہیں جاتا اور یہ تصور عہد نامہ قدیم کے بالکل منافی ہے۔پس تو رات کی سچائی جو حضرت مسیح علیہ السلام کو مسلّم ہے اس عقیدہ کے ابطال کیلئے کافی گواہی ہے۔تیرهویں دلیل: بسیجی نقطہ نظر سے باپ بیٹا اور روح القدس برابر کے ازلی ابدی اقنوم ہیں۔مگر مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں: کہ جب وہ یعنی سچائی کا روح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھلائے گا۔اسی لئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا۔لیکن جو سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں 66 دے گا۔“ (یوحنا باب ۱۶ آیت ۱۳ تا ۱۵) مذکورہ حوالہ روح القدس کے مقام کو باپ کے مقام سے کم ثابت کرتا ہے حضرات عیسائی صاحبان یہاں روح الحق سے مراد روح القدس لیتے ہیں۔اور غور نہیں کرتے کہ روح القدس تو ان کے اصول کے مطابق خود خدا ہے تو پھر وہ کس سے سنے گا۔چودھویں دلیل: بسیجی مسئلہ الوہیت مسیح اور تثلیث کو بالائے عقل قرار دیتے ہیں اور اس کی صداقت کا بنیادی ثبوت یہ دیتے ہیں کہ یہ مسئلہ کلام الہی میں بیان ہوا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ انجیل میں کہیں تثلیث اور الوہیت مسیح کا ذکر نہیں اور اگر بغرضِ محال اسے ہم مان بھی لیں تو تثلیث اور الوہیت ثابت نہیں ہوتے کیونکہ عہد نامہ جدید کا الہامی ہونا ہی مشکوک ہے۔یہ کتابیں کچھ انسانوں نے۔جن میں سے بعض کے نام بھی معلوم نہیں لکھی ہیں۔خطوط اور کتب کا یہ دعویٰ ہی نہیں کہ وہ الہامی ہیں۔مزید برآں نیا عہد نامہ اگر الہامی کتاب تھا اور اس میں الوہیت اور تثلیث کا خلاف عقل یا کم از کم بالائے عقل مسئلہ درج تھا تو اس کی حفاظت ہونی چاہئے تھی تا کہ