حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 213
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 213 اور دھنیت کے نشانات کو موجودہ زمانہ کی ترقی یافتہ فوٹو گرافی کی روشنی میں واضح کر رہے ہیں کہ مسیح جب صلیب سے اتارے گئے تھے تو زندہ تھے۔سائنس دانوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ جس واقعہ کو معجزہ سمجھا جاتا ہے۔وہ طبعی واقعہ ہے۔پوپ نہم نے اس کپڑے سے حاصل شدہ تصویر کو دیکھ کر کہا کہ یہ کسی انسانی ہاتھ کی بنائی ہوئی تصویر نہیں ہے۔اناجیل کہتی ہیں کہ مسیح نے صلیب پر جان دے دی تھی مگر سائنس دان مقر ہیں کہ دل نے عمل کرنا بند نہیں کیا تھا۔کپڑے کا خون کو جذب کرنا بتا تا ہے کہ مسیح صلیب سے اتارے جانے کے وقت زندہ تھے اس میں آپ کے سانس کا عمل جاری رہنے کی وجہ سے سینہ کے ڈبل نشان آئے ہیں یہ چادر معجزانہ طور پر ایک نیگیٹو میں تبدیل ہوگئی ہے ا ہے۔صرف پہلو سے جو خون آخر تک رستا رہا وہ Positive ہے۔جرمن سائنس دانوں کی اس تحقیق پر تبصرہ سکنڈے نیویا کے ایک اخبار Stock Holms Tidiningen Christr Iderlim Dierlim نے اپنی ۱۲ اپریل ۱۹۵۷ء کی اشاعت میں کیا ہے۔بحیرہ مردار کے صحیفے " ۱۹۴۷ء میں ایک بدو کو اپنی بکری کی تلاش کے دوران ان کا علم ہوا یہ صحیفے مقدس لائبریری ہے۔جو ابتدائی عیسائیوں نے محفوظ رکھنے کی غرض سے غاروں میں منتقل کر دی تھی The Dead Sea Cummunity by Kart Schvbert p 25 مطبوعہ A&C Black 1959 London) اس میں ایک نظموں کی کتاب ہے جس کو پڑھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ مسیح علیہ السلام کے یہ وہ گیت ہیں جو آپ نے صلیب سے بچ جانے کے بعد خدائی حمد سے سرشار ہو کر کہے تھے چند اقتباسات بطور نمونہ کے پیش ہیں:۔۔۔اے میرے خداوند میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تیری نگا ہیں میری روح پر مرکوز ہیں تو نے مجھے ان کے غضب سے بچالیا ہے جو تیری جھوٹی حمد کرتے ہیں تو نے