حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 209 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 209

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل نویں گھنٹے اس کو اتارلیا۔209 (متی باب ۲۷ آیت ۵ تا ۴۵) رومیوں کے صوبہ دار اور سپاہی جو حفاظت پر مقرر تھے اور سب لوگ جو وہاں موجود تھے۔اندھیرا اور بھونچال دیکھ کر بھاگ گئے۔متی باب ۲۷ آیت ۵۴- لوقا باب ۲۳ آیت ۴۸) اس اثناء میں آپ کو اتار کر کہیں منتقل کر دینا زیادہ آسان ہو گیا۔یہود کا دستور تھا کہ سبت کے دن کوئی نفعش صلیب پر نہ رکھیں۔علاوہ ازیں آپ کی ہڈیاں بھی توڑی نہ گئیں جبکہ ساتھ کے دو چوروں کی ہڈیاں توڑی گئیں۔نکلا۔( یوحنا باب ۱۹ آیت ۳۱ تا ۳۳) ایک سپاہی نے یسوع کی پہلی بھالے کی نوک سے چھیدی اور اس سے خون اور پانی ( یوحنا باب ۱۹ آیت ۳۴) ظاہر ہے کہ مردہ کے جسم سے خون اسطرح بہہ نہیں نکلتا۔۔۔۔۔۔یوسف آرمیتیا جو نامور مشیر تھا خود خدا کی بادشاہی کا منتظر تھا پیلاطوس کے پاس ہو کر نعش مانگی اور پیلاطوس نے یہ سن کر تعجب کا اظہار کیا کہ یسوع مر گیا ! اور شبہ کیا کہ وہ ایسا جلد مر گیا اور رومی صوبیدار سے دریافت کیا کہ کس قدر دیر ہوئی کہ یسوع مر گیا۔( مرقس باب ۱۵ آیت ۴۳ ۴۴ ) یہ بات ظاہر ہے کہ ایک نو جوان اتنی جلدی ہرگز صرف ہاتھ پیر کے زخموں سے ( تین گھنٹوں میں ) مر نہیں سکتا تھا بلکہ مصلوب تو تین تین دن تک زندہ رہتے تھے۔۔۔۔یوسف آرمتیا جو یسوع کا پوشیدہ شاگرد تھا اور با رسوخ آدمی تھا۔باغ میں آپ کو لے جا کر ایک چٹان میں کھدی ہوئی غار نما قبر میں رکھا اور نقود یمس کو جو یسوع کا شاگرد اور حکیم تھا