حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 208
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل - تو پھر آپ کا جینا الوہیت مسیح کیلئے دلیل کیسے ٹھہرا !!! انجیل کی اندرونی شہادت 208 علاوہ ازیں حقیقت یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام صلیب پر مارے ہی نہیں گئے تھے بلکہ زندہ اتارے گئے اور مشرقی ممالک کی طرف ہجرت کر گئے۔اس موقف کے اختیار کرنے کی بہت سی وجوہات ہیں جن کو اختصار سے درج کرتے ہیں:۔۔۔مسیح علیہ السلام کا اپنے واقعہ صلیب کو یونس نبی کے واقعہ سے مشابہت دنیا اور یہ کہنا کہ یونس نبی کے نشان کے سوا کوئی اور نشان نہیں دیا جائے گا۔( متی باب ۱۲ آیت ۲۹)۔۔۔اور یونس علیہ السلام زندہ ہی مچھلی کے پیٹ میں گئے اور زندہ ہی پیٹ میں رہے۔اور زندہ ہی نکالے گئے۔( یوناه باب ۲ آیت ا تا ۱۰) پس اس طرح مسیح علیہ السلام بھی صلیب سے زندہ اتارے گئے اور زمین کے پیٹ میں رکھے گئے اور زندہ ہی رہے اور زندہ ہی نکالے گئے۔۔۔۔پیلاطوس کی بیوی کو خواب آیا تھا اگر مسیح ہلاک ہو گیا تو پھر تم ہلاک ہو جاؤ گے۔(متی باب ۲۷ آیت ۱۹) م لیکن وہ ہلاک نہ ہوئے۔معلوم ہوا مسیح علیہ السلام بھی بچالئے گئے اور ہلاک نہیں ہوئے۔اسی وجہ سے پیلاطوس اس کے چھوڑنے کی کوشش کرنے لگا۔( یوحنا باب ۱۹ آیت ۲ امتی باب ۲۷ آیت ۲۳) حضرت مسیح علیہ السلام کی دعا ایلی ایلی لما شبقتنی۔(متی باب ۲۷ آیت ۴۶) خدا کے فرستادوں کی دعاسنی جاتی ہے جیسے یوناہ کی دعا مچھلی کے پیٹ میں سنی گئی تھی۔۔۔۔پیلاطوس نے ایک یہ تدبیر کی کہ جمعہ کے دن چھٹے گھنٹے میں اس کو صلیب پر چڑھایا اور