حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 207
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 207 وہ جوعورت سے پیدا ہوا ہے وہ کیونکر پاک ٹھہرے۔(ایوب باب ۲۵ آیت ۵) اور وہ جو عورت سے پیدا ہوا ہے وہ کیونکر صادق ٹھہرے۔(ایوب باب ۱۵ آیت ۱۵) چونکہ مسیح بے گناہ تھا اس لئے وہ خدا ہوا۔مگر اس خدائی میں وہ اکیلا نہیں ذکریا بھی گناہ سے پاک تھا۔اس لئے وہ بھی خدا ہوا ز کریا کی بیوی بھی گناہ سے پاک تھی اس لئے وہ بھی خدا بلکہ خدا کی بیوی ہوئی۔اس حساب سے حضرت یحییٰ علیہ السلام کے ماں باپ دونوں خدا تھے اس لئے وہ بھی خدا ٹھہرا۔بلکہ مسیح سے بڑا خدا اسے ہونا چاہئے۔ملک صدق سالم بھی خدا ہونے کا مستحق ہے۔کیونکہ وہ آدم کی اولاد سے نہ تھا اور جو اولاد آدم سے نہ ہو وہ گناہ سے پاک ہوتا ہے اور جو گناہ سے پاک ہوتا ہے وہ خدا ہوتا ہے پھر تمام فرشتے بھی خدا ہوئے کیونکہ وہ گناہ سے پاک ہیں تمام حیوانات چرند پرند بھی خدائی کے حق دار ہوئے اس فارمولے کے مطابق کیونکہ وہ بھی گناہوں میں آلودہ نہیں۔پس مسیح علیہ السلام تو کیا اس دلیل کی رو سے تو ہزاروں لاکھوں خدا ٹھہرے۔مسیح کی افضلیت اور خدائی کہاں رہی؟ ایک دلیل یہ بھی الوہیت مسیح کیلئے دی جاتی ہے کہ آپ تین دن مردہ رہ کر پھر زندہ ہو گئے اور آسمان پر چلے گئے۔اوّل تو مرنا ہی الوہیت مسیح کے رد کیلئے کافی ہے۔دوئم از روئے بائیل یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسیح علیہ السلام جسم کے اعتبار سے مارے گئے اور روح کے اعتبار سے زندہ کئے گئے جیسا کہ لکھا ہے: وہ جسم کے اعتبار سے مارا گیا مگر روح کے اعتبار سے زندہ کیا گیا۔“ پھر لکھا ہے: جس طرح یسوع مرکز جیا اسی طرح ہم بھی مر کر جیتے ہیں۔(پطرس باب ۳ آیت ۱۸) (رومیوں باب ۶ آیت ۱۰ باب ۸ آیت ۱۱)