حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 197 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 197

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل اس کرہ ارض کی آبادی کا تیسرا حصہ یعنی تقریباً ۷۵ کروڑ عیسائی ایسے سمجھتے ہیں جو کہ پہتمہ پائے ہوئے ہیں اور ان کا ننانوے فیصد یہ سمجھتا ہے کہ حضرت مسیح خدائے مجسم ہیں لیکن ان لوگوں میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں کہ جو عیسائی عقائد پر مطمئن نہیں ان کے دلوں میں بھی مخفی شکوک اور شبہات کی چنگاریاں سلگتی رہتی ہیں اور اب واد کی قمران کے غاروں کے انکشافات کے باعث یہ دبی دبی چنگاریاں شعلوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔“ آخر میں لکھتے ہیں : 197 (صفحه ۱۲۳-۲۴ الحض ) ” ہم کافی مواد دے چکے ہیں جو کہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ صحیفے دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک انعام ہے جو کہ اس دور سے دلچسپی لینے والوں کو ملا ہے یہ طومار جو نکلا ہے یہی بتاتا ہے کہ حضرت مسیح جیسا کہ انہوں نے خود کہا ابن آدم ہیں نہ کہ اقنوم ثانی اور ابن اللہ جیسا کہ ان سے بعد کے پیروکار مدعی بن گئے ہیں۔“ (The Lost Years of Jesus Revealed - page 127) (By Rev۔Doc۔Charles Francis Poter printed by Gold Medal Books Co۔1959 Page 128) (By Faweett Publication Inc۔) عہد نامہ جدید سے بھی ان باتوں کی تصدیق ہوتی ہے کہ حواری خدائے واحد کی عبادت کرتے تھے اور یسوع کو خدا نہیں سمجھتے تھے مثلاً لکھا ہے: ہم میں جو خدا کی روح سے خدا کی عبادت کرتے ہیں اور یسوع مسیح پر فخر کرے ہیں۔(فلیپیوں باب ۳ آیت ۳) مگر بچے پرستار روح اور راستی سے باپ کی پرستش کرتے ہیں۔( یوحنا باب ۴ آیت ۲۳) اسی طرح حواریوں کا ایمان مسیح کے متعلق باپ سے کم تر تھا اور بہت صاف تھا چنانچہ