حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 190
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل کیا تھا۔“ 190 چشمه مسیحی صفحه ۴۲ ۴۳ روحانی خزائن ایڈیشن اول مطبوعه الشركة الاسلامہ ربوہ، پاکستان ) در اصل قرونِ اولیٰ میں عیسائیت دو گروہوں میں بٹی ہوئی تھی ایک عبرانی نسل کے عیسائی تھے جو کہ تو حید کے علمبردار تھے اور حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کو خدا کا فرستادہ رسول مانتے تھے تاریخ میں ان عیسائیوں کو یہودی مسیحی کے نام سے یاد کیا گیا ہے ان کو سلسلہ ابیونا اور نصاری بھی کہتے ہیں۔دوسرا گروہ غیر قوموں میں سے عیسائیت قبول کرنے والوں کا تھا۔ابتداء میں اس گروہ کے عقائد کچھ ایسے بگڑے ہوئے نہیں تھے۔لیکن آہستہ آہستہ اس کلیسیا کے پیروکار یونانی فلسفہ کے تحت شرک کی راہوں پر گامزن ہو گئے۔یہاں تک کہ اس گروہ نے Nicaca کونسل سے جو کہ ۳۳۵ء میں منعقد ہوئی موحدین کی شدید مخالفت کے باوجودالوہیت مسیح مجسم خدا۔اور تثلیث کے عقائد منظور کرالئے۔ابتدائی عیسائی جو کہ یہودی مسیحی تھے اور نصرانی یا نصاری کے نام سے موسوم تھے۔ان کی ۱۰ خصوصیات ہیں۔چنانچہ یہ خصوصیات کرسٹرسٹن ڈبل نے اپنی کتاب The Scrolls and the New Testament کے صفحہ ۲۹۳ پر لکھا ہے۔وہ لکھتا ہے کہ : ابتدائی عیسائی : ا۔ایک خدا کے قائل تھے جس نے دنیا پیدا کی۔۲۔وہ صرف متی کی عبرانی انجیل کو مانتے تھے جو کہ انکی تحویل میں تھی۔۳۔وہ پولوس کی تعلیمات کو رد کرتے تھے اور اس کو شریعت سے منحرف سمجھتے تھے۔وہ ختنہ کراتے تھے۔۵۔وہ سبت مناتے تھے۔۶۔وہ شریعت کے مطابق یہودی طرز کی زندگی گزارتے تھے۔۔۔وہ یسوع کی بلا باپ پیدائش کے قائل تھے۔۸۔وہ یسوع کو خدا کا بیٹا کہتے تھے۔9۔وہ یسوع کو کلمہ از لی اور خدانہیں مانتے تھے۔۱۰۔وہ بعث بعد الموت کے قائل تھے یعنی کسی کفارہ پر یقین نہیں