حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 191
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل رکھتے تھے۔ابتدائی عیسائی حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا کا بیٹا ماننے کے باوجود خدا نہیں مانتے تھے جب حضرت مسیح کے بعض کلمات سے یہودیوں نے استدلال کیا کہ آپ انسان ہو کر خدائی کا دعویٰ کرتے ہیں تو آپ نے بتایا کہ تو رات میں مقدس لوگوں کو جنکے پاس خدا کا کلام آیا خدا کہا گیا انہی معنوں میں مجازی طور پر میں خدا کا بیٹا ہوں۔“ 191 ( یوحنا باب ۱۰ آیت ۲۹ تا ۳۱ ) پس حضرت مسیح علیہ السلام کی یہ وضاحت قرون اولیٰ کے عیسائیوں کے پیش نظر رہی چنانچہ وہ بھی ابن اللہ کے خطاب کو توریت کے تابع اور مجازی معنوں میں سمجھتے تھے چوتھی صدی میں بھی ایسے عیسائی فاضل موجود تھے جو ابن اللہ کے لقب کی یہی تشریح پیش کرتے تھے چنانچہ ایک سریانی کلیسیا کے فادر Aphroates افرائے ٹس ہو گزرے ہیں جن کا زمانہ ۳۳۰ تا ۳۵۰ ہے۔انہوں نے ۲۳ مواعظ تحریر کئے ہیں وہ اپنی ۷ ویں وعظ میں یہودیوں کے اعتراض کو نقل کر کے اس کا جواب دیتے ہیں قرون اولیٰ کا یہ قیمتی حوالہ F۔C Canybear نے جو ایک ممتاز عیسائی عالم ہوگزرے ہیں اپنی کتاب The Origins of Christianity کے صفحہ ۱۸۴ پر درج کیا ہے۔آپ نے لکھا: عیسائی ایک مصلوب انسان کی پرستش کرتے ہیں جس کا نام یسوع ہے۔وہ اسے خدا مانتے ہیں پھر اسے خدا کا بیٹا بھی کہتے ہیں حالانکہ خدا بیٹوں سے پاک ہے۔“ اس اعتراض کے جواب میں ممتاز عالم فرائے ٹس نے لکھا: وہ آدمی جو کہ خدا کی رضا کی راہوں پر چلنے والے ہیں انہیں خود خدا نے اپنا بیٹا اور اپنا دوست کہا ہے چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو چنا اسے اپنا خلیل ٹہرایا اور اپنا محبوب بنایا اور اپنی امت کا سردار مقرر کیا اسے استاد اور کا ہن کے لقب سے سرفراز کیا۔تو