حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 187 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 187

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل اور سب کا خدا اور باپ ایک ہی ہے جو سب کے اوپر سب کے درمیان اور سب کے اندر ہے۔(افسیوں باب ۴ آیت ۶) 187 ان اقتباسات سے یہ بات صاف طور پر معلوم ہو جاتی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام تو حید خداوندی کے علمبر دار تھے اور اس عقیدہ کو بنیادی عقیدہ قرار دیتے تھے سارے دل جان عقل اور طاقت سے بلا شرکت غیرے اس سے محبت رکھنا آپ کی تعلیم کا بنیادی ستون تھا۔گو یا نجات تو کیا مسیح علیہ السلام نے ہر قسم کی عزت و منزلت رتبہ اور قدردانی سب خدائے واحد سے حاصل کرنے کیلئے ارشاد فرمایا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی جماعت احمد یہ فرماتے ہیں: مسیح نے کہیں اپنی خدائی کا دعوی نہیں کیا۔یہودیوں کے پتھراؤ کرنے پر اور اس کفر کے الزام پر انکار تو کی اور کتابی محاورہ پیش کر کے نجات پائی۔اور اپنی خدائی کا کوئی ثبوت نہیں دیا۔“ ( ملفوظات جلد سوئم صفحہ ۱۳۵ ۱۳۶ روحانی خزائن ایڈیشن اول مطبوعه الشركة الاسلامہ ربوہ، پاکستان ) پس آپ نے خدا یا خدا کا بیٹا ہونے سے صاف انکار کیا جیسا کہ یوحنا باب ۱۰ آیت ۲۹ تا ۳۹ سے صاف معلوم ہوتا ہے: یسوع نے ( الزام کفر لگانے والوں کو کہا) کہ تمہاری شریعت میں یہ نہیں لکھا ہے کہ میں نے کہا تم خدا ہو جبکہ اس نے انہیں خدا کہا جن کے پاس خدا کا کلام آیا اور کتاب مقدس کا باطل ہونا ممکن نہیں۔تم اس شخص سے جسے باپ نے مقدس کر کے دنیا میں بھیجا کہتے ہو کہ تو کفر بکتا ہے اس لئے کہ اس نے کہا کہ میں خدا کا بیٹا ہوں۔“ (یوحنا باب ۱۰ آیت ۳۴ تا ۳۵) حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی جماعت احمد یہ اس سلسلہ میں فرماتے ہیں: ” جب مسیح کو یہودیوں نے اس کے کفر کے بدلے میں کہ یہ ابن اللہ ہونے کا دعویٰ