حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 167
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 167 اوّل: ان آیات قرآن سے تو یہ ہی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے صرف تورات کی ہی تصدیق فرمائی اور ان کا مشن بھی صرف بنی اسرائیل تک ہی محدود تھا۔جیسا کہ وَإِذْ قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَبَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ (سورة الصف: آیت) سے معلوم ہوتا ہے۔آپ کے مخاطب صرف بنی اسرائیل تھے اور انہی کیلئے آپ مثال اور نمونہ تھے ان کی ایک طائفہ یعنی جماعت نے آپ کو قبول کیا اور ایک جماعت نے آپ کا انکار کر دیا۔اور جب آپ نے ہدایت دینے کا کام زور شور سے شروع فرمایا تو انہوں نے آپ کو صولی پر چڑھا دیا۔لیکن انہیں آپ کو ناکام بنانے میں کامیابی نہ ہوسکی کیونکہ آپ اللہ تعالیٰ سے تائید یافتہ تھے بلکہ كَفَفْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ - فرمایا کہ بنی اسرائیل کی اس سازش میں اللہ تعالیٰ نے ایک روک پیدا فرما دی۔اور وہ بذریعہ صلیب انہیں قتل نہ کر سکے۔بلکہ انہیں ایسی اونچی جگہ پر جو ٹھہر نے کیلئے عمدہ اور چشموں والی جگہ ہے، پناہ دی گئی تھی۔اور وہ اپنے وطن سے ہجرت کر کے بنی اسرائیل کے دیگر جلاوطن قبیلوں میں تبلیغ کرنے کیلئے نکل کھڑے ہوئے۔(تفصیل کیلئے دیکھیں مسیح ہندوستان میں‘ از حضرت مرزا غلام احمد علیه السلام مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام) (روحانی خزائن، ایڈیشن اول مطبوعه الشركة الاسلامہ، ربوہ - پاکستان ) دوئم: جیسا کہ ہم نے دیکھا یہود تین نبیوں کے منتظر تھے۔جن میں سے ایلیاء حضرت یحی علیہ السلام اور مسیح بشکل حضرت عیسی علیہ السلام آچکے تھے اور اب صرف ایک عظیم الشان نبی کی آمد باقی رہ گئی تھی۔قرآن کریم نے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی سے یہ عہد لیا تھا کہ وہ اور اس کے ذریعہ اسکی امت آنے والے کی تصدیق بھی کرے اور اس پر ایمان بھی لائے۔یعنی نبی موصوف اپنی امت میں آنے والے کی نشانیاں بتا کر یہ بات اچھی طرح جاگزین کردے تا کہ جب وہ آئے تو یہ لوگ اس پر ایمان لاکر اس کے ساتھ ملکر اسکے کام میں مدد گار ثابت ہوں۔یہ