حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 168
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل۔168 اقرار حضرت نوح حضرت ابراہیم حضرت موسی حضرت عیسی علیہ اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لیا گیا کہ اپنے سے بعد آنے والے کی تصدیق کریں اور اپنے متبعین کو اس کے قبول کرنے کیلئے بشارات دیکر تیار کریں چنانچہ اس عہد اور اقرار کے بموجب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی اپنے بعد آنے والے عظیم الشان نبی یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نہ صرف خبر دی بلکہ آپ کا ارہاص ہو نیکی وجہ سے بنی اسرائیل کی کثیر تعداد کو بذریعہ بشارات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے کیلئے تیار کیا چنانچہ ہم تاریخ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جن دو قبیلوں نے آپ کا یروشلم میں انکار کردیا تھا انہوں نے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے سے انکار کر دیا۔اور جن دس قبیلوں نے آپ کو قبول کیا انہوں نے ہی بلا چوں و چرا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا قبول کیا۔سوئم: اسطرح تو رات اور نبیوں کی کتب میں مرورِ زمانہ سے بہت سی تحریف و تبدیلی ہو چکی تھی جسکی وجہ سے ہدایت کا فقدان اور غلط خیالات کی ترویج ہو رہی تھی چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام کو تو رات کا صحیح علم دیا اور تفسیر سکھائی جو آپ نے اپنے ماننے والوں کو سکھا کر ہدایت دی۔اب انا جیل کا اسی نقطہ نظر سے جائزہ لیتے ہیں کہ اسمیں آپ کا مشن کیا بیان کیا گیا ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کا مشن از روئے اناجیل حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق تصور یہی تھا کہ آپ بنی اسرائیل کیلئے ظاہر ہوں گے جیسا کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام نے فرمایا: اس لئے پانی سے بپتسمہ دیتا آیا تاوہ بنی اسرائیل پر ظاہر ہو جائے۔“ پھر لکھا ہے: ( یوحنا باب ۱ آیت ۳۱)