حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 161 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 161

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل لکھا ہے: ' تب بعض اس پر تھوکتے اور اس کا منہ ڈھانپتے اور اس کے مکے مارتے۔اور پیادوں نے اسے طمانچے مار مار کر اپنے قبضہ میں لیا۔۔۔یسوع کو کوڑے لگوا کر حوالے کیا تا کہ صلیب دیا جائے۔انہوں نے اسے ارغوانی چوغہ پہنایا اور کانٹوں کا تاج بنا کر اس کے سر پر رکھا اور وہ اس کے سر پر سر کنڈا مارتے اور اس پر تھوکتے۔۔۔اور وہ اس پر لعن طعن کرتے تھے۔“ مرقس باب ۱۵ اور آیت ۱۵-۱۷-۳۲۱۹) الْعَلِیمُ : وہ ہر ذرہ ذرہ سے واقف ہے۔بائیل میں بھی لکھا ہے : تو ، ہاں تو ، اکیلا سارے بنی آدم کے دلوں کو جانتا ہے۔“ (سلاطین باب ۸ آیت ۳۹) لیکن مسیح علیہ السلام کہتے ہیں: اس وقت میں صاف ان سے کہہ دوں گا کہ میری کبھی تم سے واقفیت نہ تھی۔“ 161 ( متی باب ۷ آیت ۲۳) اس دن یا اس گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتانہ آسمان کے فرشتے نہ بیٹا مگر باپ۔“ ( مرقس باب ۱۳ آیت ۲۳) پھر شہر کو جارہا تھا اسے بھوک لگی اور راہ کے کنارے انجیر کا ایک درخت دیکھ کر اس کے پاس گیا اور پتوں کے سوا اس میں کچھ نہ پاکر اس سے کہا کہ آئندہ تجھ پر کبھی پھل نہ لگے ( متی باب ۲۱ آیت ۱۹-۲۰) یسوع نے کہا وہ کون ہے جس نے مجھے چھوا ؟ جب سب انکار کرنے لگے تو پسطرس اور اس کے ساتھیوں نے کہا کہ اے صاحب لوگ تجھے دباتے اور تجھ پر گرے پڑتے ہیں مگر یسوع نے کہا کہ کسی نے مجھے چھوا تو ہے کیونکہ میں نے معلوم کیا کہ قوت مجھے سے نکلی۔“ (لوقا باب ۸ آیت ۴۷۴۶)