حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 160 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 160

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل۔” خدا تھکے ہوؤں کو زور بخشتا ہے اور ناتوانوں کی توانائی زیادہ کرتا ہے۔“ لیکن مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: 160 یسعیاہ باب ۴۰ آیت ۲۹) (زبور ۱۴۵ آیت ۱۴) لومڑیوں کے بھٹ ہوتے ہیں اور ہوا کے پرندوں کے گھونسلے مگر ابن آدم کیلئے 66 سر دھرنے کی جگہ نہیں۔“ ( متی باب ۸ آیت ۲۰)۔۔۔القُدُّوسُ ( سورة الحشر: آیت ۲۴) وہ ہر قسم کی نیکیوں کا مجموعہ اور پاک ہے۔لیکن حضرت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں: تو مجھے نیک کیوں کہتا ہے؟ اور کوئی نیک نہیں مگر ایک یعنی خدا‘ (لوقا باب ۱۸ آیت ۱۹)۔۔۔الغنى ( سورۃ الحشر: آیت ۲۴ وہ کسی کی مدد کا محتاج نہیں اور نہ ہی خدا کسی سے دعائیں کرتا ہے بلکہ اس سے دعائیں کی جاتی ہیں لیکن مسیح علیہ السلام کے متعلق لکھا ہے: تیسرے پہر کو یسوع بڑی آواز سے چلایا کہ ایلی ایلی لما شبقتنی یعنی اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔(مرقس باب ۱۵ آیت ۳۴) پھر لکھا ہے: وہ سخت پریشانی میں مبتلا ہو کر اور بھی دلسوزی سے دعا کرنے لگا اور اسکا پسینہ گویا خون کی بڑی بڑی بوندیں ہو کر زمین پر ٹپکتا تھا۔“ ( لوقا باب ۲۲ آیت ۴۴) کہا، یہاں بیٹھے رہو۔جب تک میں دعا کروں اور پطرس اور یعقوب اور یوحنا کو اپنے ساتھ لیکر نہایت حیران اور بے قرار ہونے لگا اور ان سے کہا میری جان نہایت غمگین ہے۔یہاں تک کہ مرنے کی نوبت پہنچ گئی ہے۔(مرقس باب ۱۴ آیت ۳۲ تا۳۳) السلام : وہ ہر ذلت اور بے عزتی سے پاک ہے لیکن مسیح علیہ السلام کے متعلق