حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 159
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل۔بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوَاتِ وَلْاَرْضَ وَلَا يَعُوْدُهُ حِفْظُهُمَا = ج وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُه (سورة البقرة: آیت ۲۵۶) 159 ج یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات پر موت وارد نہیں ہوسکتی وہ خود ہمیشہ سے زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔اور بائیل میں بھی لکھا ہے: دو ” ہر ایک صوبہ کے لوگ دانی ایل کے خدا کے حضور ترساں ولرزاں ہوں۔کیونکہ وہ زندہ خدا ہے اور ہمیشہ قائم ہے اور اسکی سلطنت لازوال ہے اور اس کی مملکت ابد تک رہے گی۔“ لیکن مسیح کے متعلق اس کے برعکس یوں لکھا ہے: دانی ایل باب ۶ آیت ۲۶) اور یسوع نے پھر بڑی آواز سے چلا کر جان دے دی۔“ (متی باب ۲۷ آیت ۵۱) ” پس یسوع نے جب وہ سر کہ پیا تو کہا کہ تمام ہوا اور سر جھکا کر جان دے دی۔“ ( یوحنا باب ۱۹ آیت ۳۰) الْقَيُّومُ (البقره ۲۵۶) خود بھی قائم بالذات اور دوسروں کو بھی جہاں چاہے جس طرح سے چاہے قائم کر دے۔مگر لکھا ہے: (۱) ہاں وہ کمزوری کے سبب سے مصلوب ہوا۔(۲ کرنتھیوں باب ۱۳ آیت ۴) نیز مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں: (۲) اپنے دائیں بائیں کسی کو بٹھا نا میرا کام نہیں۔(متی باب ۲۰ آیت ۲۲)۔۔۔۔لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ، (سورة البقرة: آیت ۲۵۶) ترجمہ: جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب ہی خدا کا ہے۔اور بائیل میں بھی لکھا ہے: