حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 155
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 155 پس در حقیقت آپ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا آپ کے مقرب الہی ہونے کی وجہ سے کہا گیا ہے نہ کہ خدا کے حقیقی بیٹا ہونے کے معنی میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اپنی تفسیر کبیر سورۃ مریم کے صفحہ ۶۶ تا ۶۸ فرماتے ہیں: " حضرت مسیح نے یہود سے کہا جو کام میں اپنے باپ کے نام سے کرتا ہوں۔وہ ہی میرے گواہ ہیں ( یعنی میری سچائی معلوم کرنے کیلئے تمہیں باہر سے کسی شہادت کے معلوم کرنے کی ضرورت نہیں ) جو کام خدا تعالیٰ نے مجھ سے کروائے ہیں وہ اپنی ذات میں اس بات کی شہادت دے رہے ہیں کہ میں سچا اور راستباز انسان ہوں ) لیکن تم اس لئے یقین نہیں کرتے کہ میری بھیڑوں میں سے نہیں ہو ( یعنی چونکہ تم میری جماعت میں سے نہیں ہو۔اس لئے تم میرے مخالف ہو ) میری بھیٹرمیں میری آواز سنتی ہیں ( یعنی جو لوگ میری جماعت میں سے ہیں وہ میری آواز کو سنتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں) اور میں انہیں جانتا ہوں اور وہ میرے پیچھے پیچھے چلتی ہیں۔اور میں انہیں ہمیشہ کی زندگی بخشتا ہوں اور وہ ابد تک کبھی ہلاک نہ ہوں گی اور کوئی ان کو میرے ہاتھ سے چھین نہ لے گا۔میرا باپ جس نے مجھے وہ دی ہیں سب سے بڑا ہے اور کوئی انہیں باپ کے ہاتھ سے نہیں چھین سکتا میں اور باپ ایک ہے ( جب حضرت مسیح علیہ السلام نے یہودیوں سے یہ بات کہی تو چونکہ آخری فقرہ یہ تھا کہ کوئی انہیں میرے ہاتھ سے چھین نہیں سکتا اور پھر انہوں نے یہ کہ دیا کہ میں اور باپ ایک ہیں اور باپ سے مراد خدا تھا تو اس کے معنی یہ بن گئے کہ میں اور خدا ایک ہیں اس سے یہودیوں نے یہ سمجھا کہ یہ شخص خدا ہونے کا دعوی کر رہا ہے چنانچہ لکھا ہے کہ اس فقرہ پر یہودیوں نے سنگ سار کرنے کیلئے پھر پتھر اٹھائے یسوع نے انہیں جواب دیا کہ میں نے تم کو باپ کی طرف سے بہترے اچھے کام دکھائے ہیں ان میں سے