حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 144 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 144

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل پرست خوش ہوں۔“ 144 نیوامریکن لائبریری سے Robert Miller کی چھپنے والی کتاب The Uses of the Past (مطبوعہ نیو یارک امریکن لائبریری) میں بھی اس بات کی تائید ملتی ہے وہ لکھتے ہیں کہ پولوس نے اولین کام یہ کیا کہ مسیح کے حقیقی تاریخی وجود کو اپنے خیالات کی بھینٹ چڑھا دیا۔۔اس نے یہ خیال پیش کیا کہ نجات صرف مسیح کے ذریعہ وابستہ ہے۔پولوس نے بڑے خلوص کے ساتھ اس انجیل کی منادی کی جس کی تعلیم مسیح نے اپنی انا جیل میں قطعا نہ دی تھی۔یہی وجہ ہے کہ آج کل کے محققین پولوس کی تبلیغی کامیابیوں کو بنظر استحسان نہیں دیکھتے۔چنانچہ برنارڈ شاہ اس کے متعلق تحریر کرتا ہے: یہ پولوس ہی تھا کہ جس نے اس مذہب کو جو صرف ایک انسان کو گناہ اور موت سے نجات دیتا ہے ایسے مذہب میں تبدیل کر دیا جس سے اب کروڑوں انسان اپنے آپ کو آزاد سمجھتے ہیں۔حالانکہ ان کی فطرت صحیحہ ان کو ملامت کرتی ہے کہ وہ مذہبی زندگی سے بالکل مبرا ہیں چنانچہ پہلے پہل پولوس نے گیتوں کو اپنے خط (صفحہ ۱۵۶) میں تحریر کیا۔کیونکہ جتنے شریعت کے اعمال پر تکیہ کرتے ہیں وہ سب لعنت کے ماتحت ہیں مسیح جو ہمارے لئے لعنتی بنا اس نے ہمیں مول لیکر شریعت کی لعنت سے چھڑایا کیونکہ لکھا گیا ہے کہ جو کوئی لڑکا یا گیا وہ عنتی ہے۔(دیکھیں گلیوں باب ۳ آیت ۱۰ تا ۱۳) حالانکہ یعقوب حواری جنہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کی صحبت پائی اور ان کی تعلیم کو اچھی طرح سمجھا۔اس غلطی کی انہوں نے تردید کی ہے چنانچہ لکھا ہے: ایمان بھی اگر عمل کے ساتھ نہ ہو تو اکیلا ہو کہ مردہ ہے۔“ (یعقوب کا خط عام - باب ۲ آیت ۱۷) لیکن پولوس کی مصلحت بینی کی غلط پالیسی نے مسیح علیہ السلام کی دی ہوئی تعلیم اور نقطہ نظر اور