حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 143 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 143

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل 143 کفارہ مسیح پر ایمان لانے سے ہی نجات ہو جائے گی بس یہ ہی کافی ہے یہ خیال عیسائیت میں کہاں سے پیدا ہو گیا ؟ اس کے متعلق صرف یہ ہی کہا جا سکتا ہے کہ پولوس جو مسیح علیہ السلام کا ایک سخت مخالف یہودی تھا۔آپ کے صلیب کے واقعہ کے پیش آنے کے بعد جب آپ نے ممالک شرقیہ کی طرف ہجرت فرمائی تو اس نے اپنا ایک رویا پیش کر دیا اور اپنے تئیں حواریوں میں شامل ہو گیا اور اپنا مقام بنانے کیلئے اس نے یہ طریق اختیار کیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی واضح ہدایات کے برخلاف غیر اقوام میں تبلیغ کرنے لگا اور عیسائی عقائد کو ان غیر اقوام کے حالات اور رسومات کے مطابق ڈھالنے لگا اور عیسائی عقائد میں تبدیلی پیدا کر دی تاکہ غیر اقوام کی تعداد کو نام نہاد عیسائیت میں سمولے اور خودسردار بن بیٹھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی جماعت احمد یہ عالمگیر اپنی کتاب ”چشمہ مسیحی“ کے صفحہ نمبر ۳۴ پر فرماتے ہیں: یہ مذہب جو عیسائی مذہب کے نام سے شہرت دیا جاتا ہے۔دراصل پولوسی مذہب ہے نہ کہ مسیحی۔اس مذہب میں تمام خرابیاں پولوس سے پیدا ہوئیں حضرت مسیح تو بے نفس تھے جنہوں نے یہ نہ چاہا کہ ان کو کوئی نیک انسان کہے۔“ پھر آپ علیہ السلام کشتی نوح میں فرماتے ہیں: یہ پولوس وہی شخص ہے جس نے حضرت مسیح کو جب تک وہ اس ملک میں رہے بہت دُکھ دیا تھا اور جب وہ صلیب سے نجات پا کر کشمیر کی طرف چلے آئے تو اس نے ایک جھوٹی خواب کے ذریعہ سے حواریوں میں اپنے تئیں داخل کیا اور تثلیث کا مسئلہ گھڑا اور عیسائیوں پر سود کو جو تو ریت کی رو سے ابدی حرام تھا حلال کردیا اور شراب کو بہت وسعت دے دی اور انجیلی عقیدہ میں تثلیث کو داخل کیا تا ان بدعتوں سے یونانی بت