حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 142 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 142

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل۔142 قدرتوں کو جانتے ہو ( متی باب ۲۸ آیت ۲۲) کیونکہ قیامت میں بیاہ شادی نہ ہوگی بلکہ لوگ آسمان پر فرشتوں کی طرح رہیں گے اسی بات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں شریعت کے معاملہ میں کتنی جہالت تھی کہ قیامت کے منکر اسطرح سے مذاق اڑاتے تھے۔حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے دل کو پاک کرنے اور گندے خیالات کو روکنے کی تلقین فرمائی ہے کیونکہ یہی خیالات بعد میں بداعمالیوں کی طرف لے جاتے ہیں اور فرمایا یہ خیالات شریعت کو توڑنے والی بداعمالیاں پیدا کرتے ہیں اور ان کے ذریعہ انسان ناپاک ہو جاتا ہے۔گویا آپ نے شریعت کے احکامات کو تو ڑ نا نا پاک ہونے کے مترادف قرار دیا ہے۔آگے چل کر آپ نے ایک شخص کو شریعت کے وہ موٹے موٹے احکامات گنوائے اور ان پر عمل کرنے کی تاکید فرمائی آپ نے شریعت کے احکامات پر جو مواخذہ ہوگا اس سے متنبہ فرمایا۔اور فرمایا کہ جب تک کوڑی کوڑی ادا نہ کرے گا وہاں سے ہرگز نہ چھوٹے گا۔اور اپنے پہاڑی وعظ میں احکامات شریعہ پر عمل کرنے والوں کو نظمند اور مضبوط بنیادوں پر اپنا گھر بنانے والا اور مخالفت اور مصائب کے طوفانوں اور آندھیوں اور بارشوں میں محفوظ رہنے والا قرار دیا ہے اور اس کے برعکس بے عمل کو بے وقوف اور ریت پر اپنے گھر کی بنیاد رکھنے والا قرار دیا ہے جو معمولی طوفانوں اور آندھیوں میں غیر محفوظ رہتا ہے۔انا جیل اربعہ سے تو یہی مترشح ہوتا ہے کہ آپ شریعت موسویہ کے تابع فرمان تھے اور حکمت اور دانائی سے اس پر عمل کرتے اور کرواتے تھے اور اس زمانہ کے لوگوں کو احکامات کی صحیح روح کے قائم رکھنے کی تلقین فرماتے تھے۔یہاں تک کہ اپنے شاگردوں کو بھی شریعت کی ظاہری شکل کو برقرار رکھنے کی تلقین فرمائی اور فرمایا کہ کتاب مقدس کا باطل ہو نا ممکن نہیں۔( دیکھیں یوحنا باب ۱۰ آیت ۳۵) اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام نے شریعت کی فرمانبرداری کی اور حواریوں سے کروائی تو یہ خیال کہ شریعت لعنت ہے اور اعمال کی کوئی ضرورت نہیں صرف