حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 141 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 141

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل۔141 فرض ہے کیونکہ شریعت ان کی نہیں موسیٰ کی ہے۔لیکن وہ خودای شریعت پر عمل نہیں کرتے اس لئے ان کی بے عملی کو اپنا نمونہ نہ بناؤ اور بے عمل نہ بن جاؤ۔پھر آپ فقیہوں اور فریسیوں کو ریا کار قرار دیتے ہیں کیونکہ وہ اپنے ذاتی فائدہ کے لئے احکامات پر دکھاوے سے عمل کرتے ہیں تا کہ ربیا استاد کہلا و ہیں۔اور دکھاوے کی خاطر نماز کو طول دیتے ہیں جبکہ اس میں روح مفقود ہوتی ہے صرف مرید بڑھانے کی خاطر وہ سب کچھ کرتے ہیں احکامات کی حکمتیں ان کو نہیں بتاتے۔پیالے اور رکابی کے اوپر سے تو صاف کرتے ہیں اور ان کے اندرلوٹ بھری ہوئی ہے۔قبر پرستی کرتے ہیں مگر ان لوگوں کے سے عمل نہیں کرتے جو ان قبروں میں ہیں۔اور شریعت کی زیادہ وزنی باتیں مثلاً انصاف اور ایمان کے پیدا کرنے کیلئے کوئی پرواہ نہیں کرتے۔صرف ظاہر پرستی ان میں ہے اور کچھ بھی نہیں ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں لازم تھا کہ شریعت کے ظاہر پر بھی عمل کرتے اور شریعت کی روح کو سمجھتے ہوئے اس کے منشاء کو بھی مدنظر رکھتے۔آپ نے خود بھی شریعت موسویہ پر اپنے مریدوں سے عمل کروایا۔ایک کوڑھی اچھا ہوا تو اسے ہدایت دی کہ شریعت موسویہ کے مطابق نذر گزار جیسا کہ احبار 14 آیت 1 تا 2 میں ہدایات موجود ہیں۔آپ نے تو رات کے حکموں کو لوگوں کیلئے بیان فرمایا اور کسی کو شریعت سے مستی نہیں ٹھہرایا۔نیز آپ نے کتاب مقدس کو نہ جانے والوں اور اس پر اس کے مطابق عمل نہ کرنے والوں کو گمراہ قرار دیا اور مسیح علیہ السلام سے جب پوچھا گیا کہ بڑا حکم کونسا ہے تو آپ نے استثناء کے باب ۶ آیت ۵ اور احبار باب ۱۹ آیت ۱۸ کے احکامات کو یکے بعد دیگرے بیان کر دیا کہ اپنے سارے دل ساری جان اور ساری طاقت سے خدوندا اپنے خدا سے محبت رکھ اور آپ نے طاقت کی جگہ عقل فرمایا۔کیونکہ اس زمانہ میں بے وقوفی اور نا سمجھی کا دور دورہ تھا۔خدا تعالیٰ کی صفات اور قدرتوں کو مد نظر نہیں رکھا جاتا تھا جیسا کہ صدوقیوں کے اسی سوال پر کہ قیامت کے روز سات خاوند کرنے والی کس خاوند کے پاس ہوگی۔فرمایا کہ تمہیں نہ کتاب مقدس کا علم ہے نہ خدا کی